منگل، 3 جنوری، 2012

غزل : فسردگی شوق کا نہ کھل سکا کوئی سبب

فسردگی شوق کا نہ کھل سکا کوئی سبب
نہ اب وہ صبح دلکشانہ عالم سکوتِ شب

قالِ جور و جبر کے فسانے کہہ رہی ہیں سب
کبھی یزید کی زباں کبھی سرشتِ بو لہب

کہیں غرورِ آ گہی کہیں فریبِ بے خودی
مگر مقامِ بندگی ہنوز بندگی طلب

کسی بھی حال میں کوئی جہاں میں مطمئن نہیں
کسی کو زیست کی ہوس کسی کو موت کی طلب

یہ وعظ و پند سب بجا مگر کبھی تو ناصحا
حیات جس سے جھوم اٹھے وہ چھیڑ نغمۂ طرب

بایں ہجوم رنج و غم مجسمہ ہے شکر کا
یہی ہے قیسیِ حزیں فسردہ دل شگفتہ لب
___________
گونڈہ، فروری 1959ء
______________________

جمعہ، 30 دسمبر، 2011

غزل : جب سے غمِ جاناں کا سزاوار ہوا ہے

جب سے غمِ جاناں کا سزاوار ہوا ہے
دل عشق کی عظمت سے خبردار ہوا ہے

دل زیست سے یوں برسرِ پیکار ہوا ہے
دیوانہ ہوا ہے کبھی ہوشیار ہوا ہے

کل تک جو ہر اک داغِ جگر داغِ جگر تھا
اب تیرے کرم سے گل و گلزار ہوا ہے

ہر دور میں جس کے لئے آسان تھا مرنا
اس دور میں جینا اسے دشوار ہوا ہے

تخلیقِ چمن ہوتی ہے، اضداد سے قیسی
ہوگا نہ کبھی گلشنِ بے خار ہوا ہے
__________
گونڈہ، جولائی 1958ء
_____________________

منگل، 27 دسمبر، 2011

غزل : گلوں کے ساتھ کب شبنم نہیں ہے

گلوں کے ساتھ کب شبنم نہیں ہے
خوشی سے دور کوئی غم نہیں ہے

گلوں کی چاک دامنی مسلم
جواب گریۂ شبنم نہیں ہے

امید و وعدۂ فردا ہو کیوں کر
بناۓ زیست مستحکم نہیں ہے

خوشی کے ہیں سب ساتھی جہاں میں
مگر کوئی شریکِ غم نہیں ہے

نہ ہوں کیوں فاش رازِ حسنِ فطرت
دلِ قیسی جامِ جم نہیں ہے
_________

گونڈہ، مارچ 1958ء
______________________

ہفتہ، 24 دسمبر، 2011

غزل : وہ غم پہ مرے جب ہنستے ہیں مجھ کو یہ تسلی ہوتی ہے

وہ غم پہ مرے جب ہنستے ہیں مجھ کو یہ تسلی ہوتی ہے
گلشن کا بھی ہے دستور یہی گل ہنستے ہیں شبنم روتی ہے

سرمایۂ یادِ عہدِ حسیں تفسیرِ دلِ برباد و حزیں
لے لو اسے دامن میں اپنے یہ اشک نہیں ہیں موتی ہیں

ہے شیخ و برہمن سے شاید یہ راز ابھی تک پوشیدہ
وہ جس سے نفرت کرتے ہیں مخلوق خدا کی ہوتی ہے

وہ ہم سے خفا جب ہوتے ہیں یاد آتے ہیں بے حد ان کے کرم
غم یاد نہیں رہتے لیکن جب ان کی عنایت ہوتی ہے

جو عہدِ وفا کے لیتے ہیں تنبیہہ یہ ان کو دے قیسی
تاکید وفا کی کرنے سے تلقین ریا کی ہوتی ہے
_____________
گونڈہ، دسمبر 1957ء
________________________

بدھ، 21 دسمبر، 2011

غزل : دل ٹوٹ گئے کتنے پتھر کی چٹانوں میں

دل ٹوٹ گئے کتنے پتھر کی چٹانوں میں
آہستہ ذرا چلئے شیشے کے مکانوں میں

لیلیٰ ہے نہ محمل ہے، مجنوں ہے نہ صحرا ہے
رکھا ہی بھلا کیا ہے دیرینہ فسانوں میں

ایام کی گردش نے یہ دن بھی دکھاۓ ہیں
تالے ہیں دہانوں میں چھالے ہیں زبانوں میں

تھی فقر میں بھی پہلے اک سطوتِ شاہانہ
اک ایسا زمانہ بھی گزرا ہے زمانوں میں

جی بھر گیا دنیا سے اب حال یہ ہے قیسی
چھایا ہے اندھیرا سا شرفا کے گھرانوں میں
___________
دیوریا.28 دسمبر 1978ء
________________________

اتوار، 18 دسمبر، 2011

غزل : میں یہ کہتا ہوں کہ ہر شیریں دہن سے ڈریئے

میں یہ کہتا ہوں کہ ہر شیریں دہن سے ڈریئے
کون کہتا ہے کہ فقط سانپ کے پھن سے ڈریئے

جستجو عیش کی کرتا ہو تو تن سے ڈریئے
اپنے مالک کو بھلاتا ہو تو من سے ڈریئے

ان کو ہنگاموں پہ رونق کا گماں ہوتا ہے
اجنبی دیس میں خود اہلِ وطن سے ڈریئے

دین کا فائدہ جس میں نہ نفع دنیا کا
جو کوئی کام نہ دے ایسی زہن سے ڈریئے

کن بلاؤں میں پھنسا دے ہمیں معلوم نہیں
جو غریبوں کے نہ کام آئے تو دھن سے ڈریئے

رنگ ہی رنگ ہے نکہت کا نہیں نام و نشاں
خار تو خار ہیں گلہاۓ چمن سے ڈریئے

چاہِ یوسف سے نکلنے کی تو امید بھی ہے
جس کو کچھ تھاہ نہیں چاہِ ذقن سے ڈریئے

ہجر کی رات ہے بے چینی و بے کیفی ہے
نوک ہے خار کی بستر کے شکن سے ڈریئے

جو ہے گردش میں شب و روز ہمارے سر پر
جس کا سایہ ہے اسی چرخِ کہن سے ڈریئے

عافیت اس میں ہے، بے نام و نشاں ہی رہئے
قیسی خاک نشیں، گور و کفن سے ڈریئے
____________
دیوریا. 23 دسمبر 1978ء
__________________________


 

جمعرات، 15 دسمبر، 2011

غزل : تھا جو ازل ہی سے مکتوب

تھا جو ازل ہی سے مکتوب
ہم سے ہوا ہے کیوں منسوب

کر کے مسخر مہر و ماہ
بھول گئے تسخیرِ قلوب

عظمتِ انساں بڑھتی جائے
دیکھ سکے گر اپنے عیوب

جوشِ جنوں میں ہوش کسے ہے
کون ہے طالب کیا مطلوب

کچھ غمِ جاناں اک غمِ دوراں
شغل یہی دو ہیں محبوب

ان کی توجہ ان کا کرم ہے
میں جو ہوا ہوں یوں معتوب

قیسی طالب ہے یہ خدا سے
مجھ کو رکھے غیرالمغضوب
___________