پیر، 4 فروری، 2019

Qaisi AlFaruqui :: Ghazal : Sarkashi Bandaie Khuda Hokar

عزل

سرکشی بندۂ خدا ہوکر
آدمی رہ گیا ہے کیا ہوکر

دل کو آئینِ خود فراموشی
تم نے سکھلا دیا ہے خفا ہوکر

زندگی لطف سے گزرتی ہے
لذّتِ غم سے آشنا ہوکر

مرحبا، مرحبا، نگاہِ ناز
درد اٹھنے لگا دوا ہوکر

رندِ معصوم پر ہزار شکوک
پارساؤں کو پارسا ہوکر

ناوک ناز دل میں اے قیسی
رہ گیا جانِ مدعا ہوکر 

قیسی الفاروقی
Shamsul Huda Faruqui Poetry
Ghazal by Shamsul Huda Qaisi AlFaruqui



ہفتہ، 8 دسمبر، 2018

Qaisi AlFaruqui :: Ghazal : Aahon Ko Apni Dekhun

Qaisi Al Faruqui Urdu Poetry
Urdu Ghazal by Shamsul Huda Qaisi AlFaruqui


غزل

آہوں کو اپنی دیکھوں کہ دیکھوں اثر کو میں
دامن بھروں گلوں سے کہ تھاموں جگر کو میں

یہ اضطرابِ شوق ہے یا بخت نارسا
منزل پہ پوچھتا ہوں کہ جاؤں کدھر سے میں

آجاؤ بھی کہ کھلنے کو ہے رازِ زندگی
یہ ہچکیاں جرس ہیں چلا ہوں سفر کو میں

اک سوزِ جاوداں ہوں جہانِ خراب میں
آیا نہیں ہوں جلنے فقط رات بھر کو میں

باقی ہے اگر آن تو کیوں فکرِ جاں کروں
اک مشتِ خاک لوں نہ لٹا کر گہر کو میں

پُر پیچ ہیں حیات کی راہیں تو کیا ہوا
قیسی دکھاؤں راہ ابھی راہبر کو میں

قیسی الفاروقی


منگل، 16 اکتوبر، 2018

Qaisi AlFaruqui :: Ghazal : Bahre Ulfat ka Koi Kinara Nahi

Urdu Ghazal by Shamsul Huda Qaisi AlFaruqui

عزل


بحرِ الفت کا کوئی کنارہ نہیں
جزغمِ عشق کوئی سہارا نہیں

سر کہیں خم ہو ہم کو گوارا نہیں
اور جھک جائے تو سرہمارانہیں

آنکھوں آنکھوں میں کہتےرہے تشنہ لب
کب سے ساقی نے ہم کو پکارا نہیں

سرخ روہم بھی ہوتے جہاں میں مگر
عام راہوں سے چلنا گوارا نہیں

جو مژہ پرلرزکرنہ دم لے سکا
وہ ہے آنسو کا قطرہ ستارہ نہیں

لطف کیا کیا ملاہے تڑپ سے مجھے
جو نہ تڑپے وہ دل مجھ کو پیارا نہیں

ہم نے روروکے قیسی بسرکی مگر
بارِ ہستی کو پھر بھی اتارا نہیں


قیسی الفاروقی

ہفتہ، 17 جون، 2017

نعت شریف : لب پہ میرے درود و سلام آ گیا

Naat-e-Rasool by Qaisi AlFaruqui

نعت شریف

لب پہ میرے درود و سلام آ گیا
جب زباں پہ محمد کا نام آ گیا

آپ تشریف لائے مدینے میں جب
لوگ کہتے تھے ماہِ تمام آ گیا

مجھ کو راہوں میں پلکیں بچھانے تو دو
اَے مدینہ کی گلیو غلام آ گیا

جان اپنی مدینہ پہ دوں تو کہوں
جذبِ کامل مرا کچھ تو کام آ گیا

چاہتا ہوں میں آقا کرم کی نظر
فکر و شبہات کا ازدحام آ گیا

اُس کو رہتی ہے کب ماسوا کی خبر
جس کے ہاتھوں میں وحدت کا جام آ گیا

جلوہ گاہِ رسالت ہے پیش نظر
سر بہ سجدہ ہے دل وہ مقام آ گیا

روضۂ پاک سر چشمۂ فیض ہے
تشنہ لب جو گیا شادکام آ گیا

حیف قیسیٌ زیارت سے محروم ہے
دور منزل ہے اور وقتِ شام آ گیا

قیسیٌ الفاروقی

منگل، 11 اپریل، 2017

غزل : چند روزہ حیات ہوتی ہے

غزل

چند روزہ حیات ہوتی ہے
زندگی بے ثبات ہوتی ہے

جو نگاہوں میں بات ہوتی ہے
عشق کی کائنات ہوتی ہے

جلتے رہتے ہیں آنسوؤں کے دیے
ہجر کی ایسی رات ہوتی ہے

جب تعصب جنون بنتا ہے
دوپہر کو بھی رات ہوتی ہے

عشق کی یہ بساط ہے قیسی
اک اشارے میں مات ہوتی ہے

قیسی الفاروقی
___________________________
Find it on Facebook : www.facebook.com/QaisiAlFaruqui
_________________________________________
Ghazal by Shamsul Huda Qaisi AlFaruqui

جمعرات، 12 جنوری، 2017

غزل : جو وقت آیا تو خوں بھی بہا دیا ہم نے

غزل

جو وقت آیا تو خوں بھی بہا دیا ہم نے
وطن کی راہ میں یوں گل کھلا دیا ہم نے

یہ زندگی نہیں غفلت کا ایک پردہ ہے
اٹھے جو دنیا سے پردہ اٹھا دیا ہم نے

غریب بھی کبھی عزت مآب ہوتا ہے
یہ کم نہیں ہے کہ یہ بھی دکھا دیا ہم نے

جو پوچھا اس نے سرمایہٴ حیات ہے کیا
تو داغدار جو دل تھا دکھا دیا ہم نے

بجا کہ جیب و دامن ہیں تار تار مگر
روش روش تو چمن کو سجا دیا ہم نے

جو ہاتھ آئ کبھی ہم کو ہاتھ پھیلا کر
وہ آرزو وہ تمنا مٹا دیا ہم نے

ہجوم غم سے ہوئے ہمکنار جب بھی ہم
تو مسکرا کر شگوفہ کھلا دیا ہم نے

سوال تھا کہ یہ پیری کہاں بسر ہوگی
جواب گورِ غریباں بتا دیا ہم نے

کہا کسی نے کہ قیسی کا ہاتھ خالی ہے
وہیں پہ آنکھ سے موتی گرا دیا ہم نے

قیسی الفاروقی
___________________________
Find it on Facebook : www.facebook.com/QaisiAlFaruqui
_________________________________________
Ghazal by Shamsul Huda Qaisi AlFaruqui

منگل، 15 نومبر، 2016

غزل : بیکسی بن گئی معینِ حیات

غزل

بیکسی   بن    گئی   معینِ   حیات
کیوں  اُٹھائیں  کِسی  کے  احسانات

روح   تن   سے  جُدا   ہوئی   لیکن
زندگی  سے  کہاں  ملی  ہے  نجات

دام     اپنا    سمیٹ    لے     صیاد
پاؤں پکڑے ہوئے ہیں خود  حالات

ہم  کو   راس  آ   گئی   بہارِ   چمن
جیب ودامن سے مِل گئی ہے نجات

ہم    نے    دامن     بچا    لیا    اپنا
آکے  آنکھوں  میں  رُک گئی برسات

زندگی    تاب   و    تپش    کا    دن
موت  تاروں  بھری  حسین  اک رات

پابہ    زنجیر    ہیں    وہی    قیسی
جِن  کو   رہتا   ہے   پاسِ  ممنوعات

قیسی الفاروقی
______________________
Find it on Facebook : www.facebook.com/QaisiAlFaruqui
_____________________________________________
A Ghazal by Qaisi AlFaruqui