Naat لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Naat لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

پیر، 17 جولائی، 2023

Qaisi Al Faruqui :: Hamd :: Naved-e Sham-o Sahar

 حمد و نعت

نوید شام و سحر لاالہ الاالله

متاع قلب و نظر لاالہ الاالله

ملائکہ کی سپر لاالہ الاالله

معز و جن و بشر لاالہ الاالله

تجلیات کا مخزن جمال کا مظہر

نمود برق و شرر لاالہ الاالله

نہیں ہے عشرت موہوم کے سوا کچھ

جہاں ہے راہگزر لاالہ الاالله

ازل سے تابہ ابد ایک مطلع انوار

بحدّ فکر و نظر لاالہ الاالله

جنوں کو ہوش نہ آۓ خرد کو نیند آۓ

اٹھے نہ سجدے سے سر لاالہ الاالله

اسی کے فیض نے اکثر نظام عالم کو

کیا ہے زیر و زبر لاالہ الاالله

محمد آپ ہی بیشک رسول برحق ہیں

نہ چھوٹے آپ کا در لاالہ الاالله

بدل گیا ہے اشارے سے ایک انگلی کے

نظام شمس و قمر لاالہ الاالله

فروغ دیں کے لئے آپ کے غلاموں نے

دیا ہے خون جگر لاالہ الاالله

گناہ گار کی آنکھوں نے شرم سے قیسیٌ

لٹاۓ لعل و گہر لاالہ الاالله

******

محمد شمس الہدیٰ قیسی ؔالفاروقی

فیض آباد  –  فروری 1971



ہفتہ، 17 جون، 2017

نعت شریف : لب پہ میرے درود و سلام آ گیا

Naat-e-Rasool by Qaisi AlFaruqui

نعت شریف

لب پہ میرے درود و سلام آ گیا
جب زباں پہ محمد کا نام آ گیا

آپ تشریف لائے مدینے میں جب
لوگ کہتے تھے ماہِ تمام آ گیا

مجھ کو راہوں میں پلکیں بچھانے تو دو
اَے مدینہ کی گلیو غلام آ گیا

جان اپنی مدینہ پہ دوں تو کہوں
جذبِ کامل مرا کچھ تو کام آ گیا

چاہتا ہوں میں آقا کرم کی نظر
فکر و شبہات کا ازدحام آ گیا

اُس کو رہتی ہے کب ماسوا کی خبر
جس کے ہاتھوں میں وحدت کا جام آ گیا

جلوہ گاہِ رسالت ہے پیش نظر
سر بہ سجدہ ہے دل وہ مقام آ گیا

روضۂ پاک سر چشمۂ فیض ہے
تشنہ لب جو گیا شادکام آ گیا

حیف قیسیٌ زیارت سے محروم ہے
دور منزل ہے اور وقتِ شام آ گیا

قیسیٌ الفاروقی

پیر، 8 جون، 2015

نعت : شاید کہ ہوں در پردہ الفاظ و معانی بھی

نعت کے تین اشعار

شاید  کہ  ہوں  در پردہ  الفاظ  و  معانی  بھی
اک نعت یہ حاضر ہے اشکوں کی زبانی بھی

تھمتے ہی نہیں آنسو عصیاں کے تصور سے
نعمت ہے بڑی نعمت اشکوں کی روانی بھی

احباب سے اب کہہ دو آ جائیں وضو کر کے
سرکار کے شاعر کی  میت ہے اٹھانی   بھی
قیسی الفاروقی

__________

 قلب کے دورے کے بعد حضرتِ والا کو لکھ کر بھیجا
دیوریا. 7 جولائی، 78ء
____________________________

Qaisi Al Faruqui Urdu Poetry
A Naat by Qaisi Al Faruqui

جمعرات، 19 جون، 2014

نعت : لب پہ میرے درود و سلام آ گیا

نعت شریف

لب پہ میرے درود و سلام آ گیا
جب زباں پہ محمد کا نام آ گیا

آپ تشریف لائے مدینے میں جب
لوگ کہتے تھے ماہ تمام آ گیا

مجھ کو راہوں میں پلکیں بچھانے تو دو
اے مدینہ کی گلیو غلام آ گیا

جان اپنی مدینہ پہ دوں تو کہوں
جذب کامل مرا کچھ تو کام آ گیا

چاہتا ہوں میں آقا کرم کی نظر
فکر و شبہات کا ازدحام آ گیا

اس کو رہتی ہے کب ماسوا کی خبر
جس کے ہاتھوں میں وحدت کا جام آ گیا

جلوہ گاہ رسالت ہے پیش نظر
سر بہ سجدہ ہے دل وہ مقام آ گیا

روضۂ پاک سر چشمۂ فیض ہے
تشنہ لب جو گیا شادکام آ گیا

حیف قیسیٌ زیارت سے محروم ہے
دور منزل ہے اور وقت شام آ گیا

قیسی الفاروقی
_______________________

Qaisi Al Faruqui Poetry
A Na'at by Qaisi Al Faruqui

جمعرات، 15 ستمبر، 2011

نعت شریف : مومن پہ ہوۓ فاش یہ اسرارِ مدینہ

مومن پہ ہوۓ فاش یہ اسرارِ مدینہ
سرکارِ دو عالم ہیں سرکارِ مدینہ

تقدیس کی تقویٰ کی ہے، ایمان کی حاصل
ہے رحمتِ حق الفتِ سرکارِ مدینہ

سمجھوں کہ لگی دل کی بجھی اس سے ہماری
چبھ جائے جو تلوؤں میں کبھی خارِ مدینہ

ہے خاک کا ذرّہ بھی یہاں خلد بداماں
کس سے ہو بیاں تابشِ انوارِ مدینہ

ہے گمبدِ خَضرا کی میسر انھیں قربت
ہم سے تو ہیں بہتر در و دیوارِ مدینہ

اخلاص و اخوت کے تھے تابندہ ستارے
تحسیں کے سزاوار ہیں انصارِ مدینہ

ہم آپ بھی سلِّ علٰی لائیں زباں پر
تسبیح میں مشغول ہیں اشجارِ مدینہ

قیسی ہے گنہگار مگر تیرے کرم سے
رہتا ہے سدا طالبِ دیدارِ مدینہ
____________________
پورن پور. مارچ 60ء

اتوار، 21 اگست، 2011

نعت شریف : لب پہ میرے درود و سلام آ گیا

لب پہ میرے درود و سلام آ گیا
جب زباں پہ محمد کا نام آ گیا

آپ تشریف لائے مدینے میں جب
لوگ کہتے تھے ماہ تمام آ گیا

مجھ کو راہوں میں پلکیں بچھانے تو دو
اے مدینے کی گلیوں غلام آ گیا

جان اپنی مدینہ پہ دوں تو کہوں
جذب کامل مرا کچھ تو کام آ گیا

چاہتا ہوں میں آقا کرم کی نظر
فکر و شبہات کا ازدحام آ گیا

اس کو رہتی ہے کب ماسوا کی خبر
جس کے ہاتھوں میں وحدت کا جام آ گیا

جلوہ گاہ رسالت ہے پیش نظر
سر بہ سجدہ ہے دل وہ مقام آ گیا

روضۂ پاک سر چشمۂ فیض ہے
تشنہ لب جو گیا شادکام آ گیا

حیف قیسی زیارت سے محروم ہے
دور منزل ہے اور وقت شام آ گیا