Muhammad Shamsul Huda Qaisi Farooqi لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Muhammad Shamsul Huda Qaisi Farooqi لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

پیر، 17 جولائی، 2023

Qaisi Al Faruqui :: Hamd :: Naved-e Sham-o Sahar

 حمد و نعت

نوید شام و سحر لاالہ الاالله

متاع قلب و نظر لاالہ الاالله

ملائکہ کی سپر لاالہ الاالله

معز و جن و بشر لاالہ الاالله

تجلیات کا مخزن جمال کا مظہر

نمود برق و شرر لاالہ الاالله

نہیں ہے عشرت موہوم کے سوا کچھ

جہاں ہے راہگزر لاالہ الاالله

ازل سے تابہ ابد ایک مطلع انوار

بحدّ فکر و نظر لاالہ الاالله

جنوں کو ہوش نہ آۓ خرد کو نیند آۓ

اٹھے نہ سجدے سے سر لاالہ الاالله

اسی کے فیض نے اکثر نظام عالم کو

کیا ہے زیر و زبر لاالہ الاالله

محمد آپ ہی بیشک رسول برحق ہیں

نہ چھوٹے آپ کا در لاالہ الاالله

بدل گیا ہے اشارے سے ایک انگلی کے

نظام شمس و قمر لاالہ الاالله

فروغ دیں کے لئے آپ کے غلاموں نے

دیا ہے خون جگر لاالہ الاالله

گناہ گار کی آنکھوں نے شرم سے قیسیٌ

لٹاۓ لعل و گہر لاالہ الاالله

******

محمد شمس الہدیٰ قیسی ؔالفاروقی

فیض آباد  –  فروری 1971



ہفتہ، 26 اکتوبر، 2013

نظم : تکیہ

مجھ سے پچن نے ایک دن یہ کہا
آپ کا داغدار ہے تکیہ
 
جی یہ سچ ہے، جواب میں نے دیا
آپ پر کیوں بار ہے تکیہ
 
یہ تو ساتھی ہے میرے بچپن کا
اور پیری کا یار ہے تکیہ
 
میں بھی دبلا ہوں یہ بھی پتلا ہے
کس قدر خاکسار ہے تکیہ
 
نیند آتی نہیں ہے خشکی سے
مفت میں شرمسار ہے تکیہ
 
کچھ دنوں بعد پھر بہو نے میری
بھیجا اک شاندار ہے تکیہ
 
اور محنت سے دست کاری سے
واقعی شاہکار ہے تکیہ
 
میں نے بے ساختہ کہا پا کر
واہ کیا شاندار ہے تکیہ
 
روئی سیمل کی اس میں ہے بھرپور
اور بہت جاندار ہے تکیہ
 
کھو گیا ہوں میں بیل بوٹوں میں
رشکِ باغ و بہار ہے تکیہ
 
سر کو رکھتے ہی نیند آتی ہے
ایک بیٹی کا پیار ہے تکیہ
 
شاد و خرم رہو گی سلطانہ
میرے دل کا قرار ہے تکیہ
 
تم کو انعام کچھ نہیں دیتا
یوں سمجھنا ادھار ہے تکیہ


قیسی الفاروقی

جونپور
٣١ اگست ١٩٦١

___________________________ 

Urdu Poetry by Qaisi AlFaruqui
Takiya, the pillow, a poem by Qaisi AlFaruqui
Urdu Poetry by Qaisi AlFaruqui

جمعہ، 7 جون، 2013

نظم : وبالی پتلون

کتنی حسرت سے میں غیروں کو تکا کرتا تھا
ایک پتلون کی بس دل سے دعا کرتا تھا
شیروانی سے میں شرمندہ ہوا کرتا تھا
آرزو دل میں یہی ایک رکھا کرتا تھا
کتنے دن پہنے رہا ایک خیالی پتلون

پھر چچا جان نے پورا کیا میرا سپنا
ان سے دیکھا نہ گیا روز کا میرا تپنا
دے دیا سلک کا اک سوٹ پرانا اپنا
اس طرح بند ہوا پینٹ کا مالا جپنا
اپنے سینے سے وہیں میں نے لگا لی پتلون

جا بجا جب وہ مسکتی تھی مسک جانے دی
پیٹ سے نیچے کھسکتی تھی کھسک جانے دی
کبھی ایڑی میں جو اٹکی تو اٹک جانے دی
جسم پر اپنے کسی طرح چپک جانے دی
اس طرح پہلے پہل میں نے سنبھالی پتلون

لکھنؤ میں بھی بزرگوں کا چلن یاد رہا
ان سے کچھ دور بھی تھا اس لئے آزاد رہا
جیب بھی گرم تھی، میں اس سے بہت شاد رہا
اور فیشن تو ہمیشہ ستم ایجاد رہا
میں نے گڈفٹ کے یہاں ایک سلالی پتلون

 سگرٹیں پینے لگا چائے کا بیمار بنا
کچھ گلا اچھا تھا فلموں کا پرستار بنا
اک تخلص بھی رکھا خالق اشعار بنا
زین مکھن کی خریدی تو طرحدار بنا
اور سرما میں سلائی گئی کالی پتلون

اور خیر سے جب ہو گئی میری شادی
مجھ کو پتلون پہنے کی ملی آزادی
کوٹ پتلون پہنے کا ہوا میں عادی
مجھ پہ قربان ہوئیں بیوی کی بوڑھی دادی
کتنی مرغوب ہوئی دیکھ کے سالی پتلون


قیسی الفاروقی
پورن پور،٦ مئی ٦١
______________________________________

Wabali Patlun by Qaisi Al Faruqui

جمعرات، 15 ستمبر، 2011

نعت شریف : مومن پہ ہوۓ فاش یہ اسرارِ مدینہ

مومن پہ ہوۓ فاش یہ اسرارِ مدینہ
سرکارِ دو عالم ہیں سرکارِ مدینہ

تقدیس کی تقویٰ کی ہے، ایمان کی حاصل
ہے رحمتِ حق الفتِ سرکارِ مدینہ

سمجھوں کہ لگی دل کی بجھی اس سے ہماری
چبھ جائے جو تلوؤں میں کبھی خارِ مدینہ

ہے خاک کا ذرّہ بھی یہاں خلد بداماں
کس سے ہو بیاں تابشِ انوارِ مدینہ

ہے گمبدِ خَضرا کی میسر انھیں قربت
ہم سے تو ہیں بہتر در و دیوارِ مدینہ

اخلاص و اخوت کے تھے تابندہ ستارے
تحسیں کے سزاوار ہیں انصارِ مدینہ

ہم آپ بھی سلِّ علٰی لائیں زباں پر
تسبیح میں مشغول ہیں اشجارِ مدینہ

قیسی ہے گنہگار مگر تیرے کرم سے
رہتا ہے سدا طالبِ دیدارِ مدینہ
____________________
پورن پور. مارچ 60ء

اتوار، 21 اگست، 2011

نعت شریف : لب پہ میرے درود و سلام آ گیا

لب پہ میرے درود و سلام آ گیا
جب زباں پہ محمد کا نام آ گیا

آپ تشریف لائے مدینے میں جب
لوگ کہتے تھے ماہ تمام آ گیا

مجھ کو راہوں میں پلکیں بچھانے تو دو
اے مدینے کی گلیوں غلام آ گیا

جان اپنی مدینہ پہ دوں تو کہوں
جذب کامل مرا کچھ تو کام آ گیا

چاہتا ہوں میں آقا کرم کی نظر
فکر و شبہات کا ازدحام آ گیا

اس کو رہتی ہے کب ماسوا کی خبر
جس کے ہاتھوں میں وحدت کا جام آ گیا

جلوہ گاہ رسالت ہے پیش نظر
سر بہ سجدہ ہے دل وہ مقام آ گیا

روضۂ پاک سر چشمۂ فیض ہے
تشنہ لب جو گیا شادکام آ گیا

حیف قیسی زیارت سے محروم ہے
دور منزل ہے اور وقت شام آ گیا

جمعہ، 19 اگست، 2011

حمد : نویدشام وسحرلاالہ الاالله - متاع قلب ونظرلاالہ الاالله

نوید شام و سحر لاالہ الاالله
متاع قلب و نظر لاالہ الاالله

ملائکہ کی سپر لاالہ الاالله
معز و جن و بشر لاالہ الاالله

تجلیات کا مخزن جمال کا مظہر
نمود برق و شرر لاالہ الاالله

نہیں ہے عشرت موہوم کے سوا کچھ
جہاں ہے راہگزر لاالہ الاالله

ازل سے تابہ ابد ایک مطلع انوار
بحدّ فکر و نظر لاالہ الاالله

جنوں کو ہوش نہ آۓ خرد کو نیند آۓ
اٹھے نہ سجدے سے سر لاالہ الاالله

اسی کے فیض نے اکثر نظام عالم کو
کیا ہے زیر و زبر لاالہ الاالله

محمد آپ ہی بیشک رسول برحق ہیں
نہ چھوٹے آپ کا در لاالہ الاالله

بدل گیا ہے اشارے سے ایک انگلی کے
نظام شمس و قمر لاالہ الاالله

فروغ دیں کے لئے آپ کے غلاموں نے
دیا ہے خون جگر لاالہ الاالله

گناہ گار کی آنکھوں نے شرم سے قیسی
لٹاۓ لعل و گہر لاالہ الاالله
______________________
فیض آباد – فروری 1971