Muhammad Shamsul Huda Qaisi Faruqui لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Muhammad Shamsul Huda Qaisi Faruqui لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

پیر، 17 جولائی، 2023

Qaisi Al Faruqui :: Hamd :: Naved-e Sham-o Sahar

 حمد و نعت

نوید شام و سحر لاالہ الاالله

متاع قلب و نظر لاالہ الاالله

ملائکہ کی سپر لاالہ الاالله

معز و جن و بشر لاالہ الاالله

تجلیات کا مخزن جمال کا مظہر

نمود برق و شرر لاالہ الاالله

نہیں ہے عشرت موہوم کے سوا کچھ

جہاں ہے راہگزر لاالہ الاالله

ازل سے تابہ ابد ایک مطلع انوار

بحدّ فکر و نظر لاالہ الاالله

جنوں کو ہوش نہ آۓ خرد کو نیند آۓ

اٹھے نہ سجدے سے سر لاالہ الاالله

اسی کے فیض نے اکثر نظام عالم کو

کیا ہے زیر و زبر لاالہ الاالله

محمد آپ ہی بیشک رسول برحق ہیں

نہ چھوٹے آپ کا در لاالہ الاالله

بدل گیا ہے اشارے سے ایک انگلی کے

نظام شمس و قمر لاالہ الاالله

فروغ دیں کے لئے آپ کے غلاموں نے

دیا ہے خون جگر لاالہ الاالله

گناہ گار کی آنکھوں نے شرم سے قیسیٌ

لٹاۓ لعل و گہر لاالہ الاالله

******

محمد شمس الہدیٰ قیسی ؔالفاروقی

فیض آباد  –  فروری 1971



بدھ، 29 جنوری، 2020

Qaisi AlFaruqui :: Ghazal : Jise Dil Samajhta Hai Be-khabar

غزل

جسے دل سمجھتا ہے بے خبر نہیں کچھ بھی اس میں جو غم نہیں
یوں ہی بے حسی میں گزر گئی تو حیات بھی موت سے کم نہیں

میری عمر بھر کی مسرتیں انہیں چار تنکوں پہ تھیں مگر
جو چمن بچا ہے تو باغباں مجھے آشیاں کا بھی غم نہیں

ہیں عبث یہ تیری شکایتیں یہی بیش و کم کی حکایتیں
تجھے خود ہی پاسِ خودی نہیں ترے دل میں اپنا بھرم نہیں

نہ مسرتوں کا خیال ہے نہ مصیبتوں کا ملال ہے
تری ہر خوشی ہے مری خوشی یہی اک خوشی مجھے کم نہیں

وہی تیرا قیسی مبتلا، ترے در پہ تھا جو پڑا ہوا
نہ ہوا ہو مشق غریب پر کوئی ایسا طرزِ ستم نہیں

قیسی الفاروقی

Qaisi AlFaruqui :: Ghazal : Jise Dil Samajhta Hai Be-khabar

پیر، 4 فروری، 2019

Qaisi AlFaruqui :: Ghazal : Sarkashi Bandaie Khuda Hokar

عزل

سرکشی بندۂ خدا ہوکر
آدمی رہ گیا ہے کیا ہوکر

دل کو آئینِ خود فراموشی
تم نے سکھلا دیا ہے خفا ہوکر

زندگی لطف سے گزرتی ہے
لذّتِ غم سے آشنا ہوکر

مرحبا، مرحبا، نگاہِ ناز
درد اٹھنے لگا دوا ہوکر

رندِ معصوم پر ہزار شکوک
پارساؤں کو پارسا ہوکر

ناوک ناز دل میں اے قیسی
رہ گیا جانِ مدعا ہوکر 

قیسی الفاروقی
Shamsul Huda Faruqui Poetry
Ghazal by Shamsul Huda Qaisi AlFaruqui



ہفتہ، 8 دسمبر، 2018

Qaisi AlFaruqui :: Ghazal : Aahon Ko Apni Dekhun

Qaisi Al Faruqui Urdu Poetry
Urdu Ghazal by Shamsul Huda Qaisi AlFaruqui


غزل

آہوں کو اپنی دیکھوں کہ دیکھوں اثر کو میں
دامن بھروں گلوں سے کہ تھاموں جگر کو میں

یہ اضطرابِ شوق ہے یا بخت نارسا
منزل پہ پوچھتا ہوں کہ جاؤں کدھر سے میں

آجاؤ بھی کہ کھلنے کو ہے رازِ زندگی
یہ ہچکیاں جرس ہیں چلا ہوں سفر کو میں

اک سوزِ جاوداں ہوں جہانِ خراب میں
آیا نہیں ہوں جلنے فقط رات بھر کو میں

باقی ہے اگر آن تو کیوں فکرِ جاں کروں
اک مشتِ خاک لوں نہ لٹا کر گہر کو میں

پُر پیچ ہیں حیات کی راہیں تو کیا ہوا
قیسی دکھاؤں راہ ابھی راہبر کو میں

قیسی الفاروقی


منگل، 16 اکتوبر، 2018

Qaisi AlFaruqui :: Ghazal : Bahre Ulfat ka Koi Kinara Nahi

Urdu Ghazal by Shamsul Huda Qaisi AlFaruqui

عزل


بحرِ الفت کا کوئی کنارہ نہیں
جزغمِ عشق کوئی سہارا نہیں

سر کہیں خم ہو ہم کو گوارا نہیں
اور جھک جائے تو سرہمارانہیں

آنکھوں آنکھوں میں کہتےرہے تشنہ لب
کب سے ساقی نے ہم کو پکارا نہیں

سرخ روہم بھی ہوتے جہاں میں مگر
عام راہوں سے چلنا گوارا نہیں

جو مژہ پرلرزکرنہ دم لے سکا
وہ ہے آنسو کا قطرہ ستارہ نہیں

لطف کیا کیا ملاہے تڑپ سے مجھے
جو نہ تڑپے وہ دل مجھ کو پیارا نہیں

ہم نے روروکے قیسی بسرکی مگر
بارِ ہستی کو پھر بھی اتارا نہیں


قیسی الفاروقی

ہفتہ، 17 جون، 2017

نعت شریف : لب پہ میرے درود و سلام آ گیا

Naat-e-Rasool by Qaisi AlFaruqui

نعت شریف

لب پہ میرے درود و سلام آ گیا
جب زباں پہ محمد کا نام آ گیا

آپ تشریف لائے مدینے میں جب
لوگ کہتے تھے ماہِ تمام آ گیا

مجھ کو راہوں میں پلکیں بچھانے تو دو
اَے مدینہ کی گلیو غلام آ گیا

جان اپنی مدینہ پہ دوں تو کہوں
جذبِ کامل مرا کچھ تو کام آ گیا

چاہتا ہوں میں آقا کرم کی نظر
فکر و شبہات کا ازدحام آ گیا

اُس کو رہتی ہے کب ماسوا کی خبر
جس کے ہاتھوں میں وحدت کا جام آ گیا

جلوہ گاہِ رسالت ہے پیش نظر
سر بہ سجدہ ہے دل وہ مقام آ گیا

روضۂ پاک سر چشمۂ فیض ہے
تشنہ لب جو گیا شادکام آ گیا

حیف قیسیٌ زیارت سے محروم ہے
دور منزل ہے اور وقتِ شام آ گیا

قیسیٌ الفاروقی

منگل، 11 اپریل، 2017

غزل : چند روزہ حیات ہوتی ہے

غزل

چند روزہ حیات ہوتی ہے
زندگی بے ثبات ہوتی ہے

جو نگاہوں میں بات ہوتی ہے
عشق کی کائنات ہوتی ہے

جلتے رہتے ہیں آنسوؤں کے دیے
ہجر کی ایسی رات ہوتی ہے

جب تعصب جنون بنتا ہے
دوپہر کو بھی رات ہوتی ہے

عشق کی یہ بساط ہے قیسی
اک اشارے میں مات ہوتی ہے

قیسی الفاروقی
___________________________
Find it on Facebook : www.facebook.com/QaisiAlFaruqui
_________________________________________
Ghazal by Shamsul Huda Qaisi AlFaruqui

جمعرات، 12 جنوری، 2017

غزل : جو وقت آیا تو خوں بھی بہا دیا ہم نے

غزل

جو وقت آیا تو خوں بھی بہا دیا ہم نے
وطن کی راہ میں یوں گل کھلا دیا ہم نے

یہ زندگی نہیں غفلت کا ایک پردہ ہے
اٹھے جو دنیا سے پردہ اٹھا دیا ہم نے

غریب بھی کبھی عزت مآب ہوتا ہے
یہ کم نہیں ہے کہ یہ بھی دکھا دیا ہم نے

جو پوچھا اس نے سرمایہٴ حیات ہے کیا
تو داغدار جو دل تھا دکھا دیا ہم نے

بجا کہ جیب و دامن ہیں تار تار مگر
روش روش تو چمن کو سجا دیا ہم نے

جو ہاتھ آئ کبھی ہم کو ہاتھ پھیلا کر
وہ آرزو وہ تمنا مٹا دیا ہم نے

ہجوم غم سے ہوئے ہمکنار جب بھی ہم
تو مسکرا کر شگوفہ کھلا دیا ہم نے

سوال تھا کہ یہ پیری کہاں بسر ہوگی
جواب گورِ غریباں بتا دیا ہم نے

کہا کسی نے کہ قیسی کا ہاتھ خالی ہے
وہیں پہ آنکھ سے موتی گرا دیا ہم نے

قیسی الفاروقی
___________________________
Find it on Facebook : www.facebook.com/QaisiAlFaruqui
_________________________________________
Ghazal by Shamsul Huda Qaisi AlFaruqui

منگل، 15 نومبر، 2016

غزل : بیکسی بن گئی معینِ حیات

غزل

بیکسی   بن    گئی   معینِ   حیات
کیوں  اُٹھائیں  کِسی  کے  احسانات

روح   تن   سے  جُدا   ہوئی   لیکن
زندگی  سے  کہاں  ملی  ہے  نجات

دام     اپنا    سمیٹ    لے     صیاد
پاؤں پکڑے ہوئے ہیں خود  حالات

ہم  کو   راس  آ   گئی   بہارِ   چمن
جیب ودامن سے مِل گئی ہے نجات

ہم    نے    دامن     بچا    لیا    اپنا
آکے  آنکھوں  میں  رُک گئی برسات

زندگی    تاب   و    تپش    کا    دن
موت  تاروں  بھری  حسین  اک رات

پابہ    زنجیر    ہیں    وہی    قیسی
جِن  کو   رہتا   ہے   پاسِ  ممنوعات

قیسی الفاروقی
______________________
Find it on Facebook : www.facebook.com/QaisiAlFaruqui
_____________________________________________
A Ghazal by Qaisi AlFaruqui




پیر، 13 جون، 2016

غزل : جسے دل سمجھتا ہے بے خبر نہیں کچھ بھی اس میں جو غم نہیں

غزل

جسے دل سمجھتا ہے بے خبر نہیں کچھ بھی اس میں جو غم نہیں
یوں ہی بے حسی میں گزر گئی تو حیات بھی موت سے کم نہیں

میری عمر بھر کی مسرتیں انہیں چار تنکوں پہ تھیں مگر    
جو چمن بچا ہے تو باغباں مجھے آشیاں کا بھی غم نہیں     

میں بغیر منتِ راہبر ہوں بلند و پست سے باخبر           
مرا ذوق خود مرا رہنما، میں اسیر نقش قدم نہیں        

ہیں عبث یہ تیری شکایتیں یہی بیش و کم کی حکایتیں     
تجھے خود ہی پاسِ خودی نہیں ترے دل میں اپنا بھرم نہیں

ہے قسم مذاق سجود کی کہ نگاہِ شوق و شعور میں               
وہ جبیں ہے ننگِ جبیں ابھی جو کسی آستاں پہ خم نہیں    

نہ مسرتوں کا خیال ہے نہ مصیبتوں کا ملال ہے             
تری ہر خوشی ہے مری خوشی یہی اک خوشی مجھے کم نہیں 

وہی تیرا قیسی مبتلا، ترے در پہ تھا جو پڑا ہوا                  
نہ ہوا ہو مشق غریب پر کوئی ایسا طرزِ ستم نہیں     

قَیْسِیْ اَلْفَارُوْقِی
____________________________

Qaisi Al Faruqui Poetry
A Ghazal by Qaisi Al Faruqui
Find it on Facebook : www.facebook.com/QaisiAlFaruqui

بدھ، 20 جنوری، 2016

نظم : جھنڈا

جھنڈا

پریم کی آؤ نگری بسائیں
راگ سے اپنے غم کو بھلائیں
پریت کا سب کو گیت سنائیں
آؤ ہم تم مل کر گائیں
ہند کا پیارا پیارا جھنڈا، ہند کا راج دلارا جھنڈا
ساری دنیا میں لہرائیں

آپس کے سب فرق مٹائیں
آزادی کو دھرم بنائیں
آزادی ہی کے گن گائیں
تن من دھن سب کچھ ہی لٹائیں
ہند کا پیارا پیارا جھنڈا، ہند کا راج دلارا جھنڈا
ساری دنیا میں لہرائیں

اونچے اونچے محلوں والے
تاجوں والے تختوں والے
خود غرضی کے سب متوالے
تو بھی گا دھن دولت والے
ہند کا پیارا پیارا جھنڈا، ہند کا راج دلارا جھنڈا
ساری دنیا میں لہرائیں

دولت دیش کی اپنی کر لیں
جھولی مسکینوں کی بھر دیں
دکھیوں کی ہم سیوا کر لیں
سب کو خوش و خرم کر دیں
ہند کا پیارا پیارا جھنڈا، ہند کا راج دلارا جھنڈا
ساری دنیا میں لہرائیں

دکھیا بپا  کا نام مٹا دیں
سکھ کا جگ میں راج چلا دیں
درویش پجاری زور دکھا دیں
آزادی کی دھوم مچا دیں
ہند کا پیارا پیارا جھنڈا، ہند کا راج دلارا جھنڈا
ساری دنیا میں لہرائیں

قیسی الفاروقی
_____________________

Shamsul Huda Qaisi Al Faruqui Poetry
A Poem by Qaisi Al Faruqui
Find Qaisi Al Faruqui on Facebook.

بدھ، 18 نومبر، 2015

غزل : غمِ عشق کے تصدق یہ عجب مقام آیا

غزل

غمِ عشق کے تصدق یہ عجب مقام آیا
نہ خرد ہی کام آئی نہ جنوں ہی کام آیا

جو سنا تو مختصر تھا غمِ عشق کا فسانہ
کبھی میرا نام آیا،  کبھی تیرا نام آیا

نہ خزاں نے کچھ بگاڑا، نہ بہار نے سنوارا
جو ہیں بے عمل انھیں کو یہ خیالِ خام آیا

تری مصلحت کے قرباں ترے میکدے سے ساقی
کوئی شادکام آیا، کوئی تشنہ کام آیا

مری عرض و التجا پر تری برہمی وہ ساقی
میں گزر گیا خودی سے جو تو مے بجام آیا

جو لہک رہا ہے سبزہ تو چٹک رہا ہے غنچہ
کہ چمن میں سیرِ گل کو کوئی خوش خرام آیا

مرے غم پہ ہنسنے والے نہ سمجھ سکے یہ قیسی
کہ براۓ آب و دانہ کوئی زیرِ دام آیا

قیسی الفاروقی
_____________________

Qaisi AlFaruqui Urdu Poetry
A Ghazal by Qaisi AlFaruqui
Find it on Facebook : www.facebook.com/QaisiAlFaruqui

جمعرات، 22 اکتوبر، 2015

غزل : آہوں کو اپنی دیکھوں کہ دیکھوں اثر کو میں

غزل

آہوں کو اپنی دیکھوں کہ دیکھوں اثر کو میں
دامن بھروں گلوں سے کہ تھاموں جگر کو میں

یہ اضطرابِ شوق ہے یا بخت نارسا     
منزل پہ پوچھتا ہوں کہ جاؤں کدھر سے میں

آجاؤ بھی کہ کھلنے کو ہے رازِ زندگی      
یہ ہچکیاں جرس ہیں چلا ہوں سفر کو میں

اک سوزِ جاوداں ہوں جہانِ خراب میں    
آیا نہیں ہوں جلنے فقط رات بھر کو میں

باقی ہے اگر آن تو کیوں فکرِ جاں کروں  
اک مشتِ خاک لوں نہ لٹا کر گہر کو میں
 
پُر پیچ ہیں حیات کی راہیں تو کیا ہوا  
قیسی دکھاؤں راہ ابھی راہبر کو میں

قیسی الفاروقی
_____________________

Qaisi AlFaruqui Poetry
A Ghazal by Mohammad Shamsul Huda Qaisi AlFaruqui

منگل، 15 ستمبر، 2015

غزل : بحرِ الفت کا کوئی کنارہ نہیں

غزل

بحرِ الفت کا کوئی کنارہ نہیں
جزغمِ عشق کوئی سہارا نہیں

سر کہیں خم ہو ہم کو گوارا نہیں
اور جھک جائے تو سرہمارانہیں

آنکھوں آنکھوں میں کہتےرہے تشنہ لب
کب سے ساقی نے ہم کو پکارا نہیں

سرخ روہم بھی ہوتے جہاں میں مگر
عام راہوں سے چلنا گوارا نہیں

جو مژہ پرلرزکرنہ دم لے سکا
وہ ہے آنسو کا قطرہ ستارہ نہیں

لطف کیا کیا ملاہے تڑپ سے مجھے
جو نہ تڑپے وہ دل مجھ کو پیارا نہیں

ہم نے روروکے قیسی بسرکی مگر
بارِ ہستی کو پھر بھی اتارا نہیں

قیسی الفاروقی
An Urdu Ghazal by Shamsul Huda Qaisi AlFaruqui.
Qaisi AlFaruqui Poetry
Ghazal by Qaisi AlFaruqui
















پیر، 8 جون، 2015

نعت : شاید کہ ہوں در پردہ الفاظ و معانی بھی

نعت کے تین اشعار

شاید  کہ  ہوں  در پردہ  الفاظ  و  معانی  بھی
اک نعت یہ حاضر ہے اشکوں کی زبانی بھی

تھمتے ہی نہیں آنسو عصیاں کے تصور سے
نعمت ہے بڑی نعمت اشکوں کی روانی بھی

احباب سے اب کہہ دو آ جائیں وضو کر کے
سرکار کے شاعر کی  میت ہے اٹھانی   بھی
قیسی الفاروقی

__________

 قلب کے دورے کے بعد حضرتِ والا کو لکھ کر بھیجا
دیوریا. 7 جولائی، 78ء
____________________________

Qaisi Al Faruqui Urdu Poetry
A Naat by Qaisi Al Faruqui

جمعرات، 19 جون، 2014

نعت : لب پہ میرے درود و سلام آ گیا

نعت شریف

لب پہ میرے درود و سلام آ گیا
جب زباں پہ محمد کا نام آ گیا

آپ تشریف لائے مدینے میں جب
لوگ کہتے تھے ماہ تمام آ گیا

مجھ کو راہوں میں پلکیں بچھانے تو دو
اے مدینہ کی گلیو غلام آ گیا

جان اپنی مدینہ پہ دوں تو کہوں
جذب کامل مرا کچھ تو کام آ گیا

چاہتا ہوں میں آقا کرم کی نظر
فکر و شبہات کا ازدحام آ گیا

اس کو رہتی ہے کب ماسوا کی خبر
جس کے ہاتھوں میں وحدت کا جام آ گیا

جلوہ گاہ رسالت ہے پیش نظر
سر بہ سجدہ ہے دل وہ مقام آ گیا

روضۂ پاک سر چشمۂ فیض ہے
تشنہ لب جو گیا شادکام آ گیا

حیف قیسیٌ زیارت سے محروم ہے
دور منزل ہے اور وقت شام آ گیا

قیسی الفاروقی
_______________________

Qaisi Al Faruqui Poetry
A Na'at by Qaisi Al Faruqui

جمعہ، 2 مئی، 2014

منقبت : مولیٰنا شاہ وصی اللہ صاحب رحمتہ اللہ عالیہ

مرشدی حضرت مصلح الامت
مولیٰنا شاہ وصی اللہ صاحب رحمتہ اللہ عالیہ



مصلح الامت و وصی اللہ
میرے حضرت کے نام آتے ہیں

ہیں اکابر جہاں میں جتنے بھی
سب کے ان کو سلام آتے ہیں

ماہِ رمضان میں الہٰ آباد
جو گئے شاد کام آتے ہیں

ان کی مجلس سے پختہ کار اٹھے
گھر میں اپنے جو خام آتے ہیں

مفتی و قاضی و حکیم و عدیل
کوئی تیز گام آتے ہیں

زندگی ہی سنور گئی سب کی
کتنے اچھے نظام آتے ہیں

ان کے در پر حضور قلب لئے
شیخ بااحترام آتے ہیں

صحنِ گلشن میں سیر کرنے کو
کون یہ خوش خرام آتے ہیں

بارہا وہ جبینِ شوق لئے
سوئے بیت الحرام آتے ہیں

رہبرِ دیں جدھر سے گزرے ہیں
چھوڑ نقشِ دوام آتے ہیں

جس سے روشن ہوئے سراج الحق
وہی عالی مقام آتے ہیں

معرفت حق کی جس نے بخشی ہے
عارف لاکلام آتے ہیں

بمبئی ہو کہ وہ علی گڑھ ہو
دیکھنے ازدحام آتے ہیں

ہر جگہ مرجع خلائق ہیں
ملحِ  خاص و عام آتے ہیں

وہ طریقت ہویا شریعت ہو
ان کے فیضان کام آتے ہیں

بات جو بھی خلافِ سنّت ہو
اس پہ وہ بے نیام آتے ہیں

ہیں جلو میں مہ و نجوم کئی
جب وہ ذی احتشام آتے ہیں

نور ہی نور ہیں جدھر دیکھو
جلوہ آرائے بام آتے ہیں

ساتھ ہی ان کے ہے کتابِِ مبیں
اور قاری امام آتے ہیں

حضرت عبدالحکیم و جامی کو
ہمرہی کے پیام آتے ہیں

ساتھ قمرالزماں ہیں جلوہ نما
جب وہ بدرالتمام آتے ہیں

مشوروں کے لئے صلاح الدین
کرکے کچھ اہتمام آتے ہیں

بھائی عبدالولی  کی بن آئ
جب وہ عالی مقام آتے ہیں

چل رہی ہے سبیلِ آبِِ حیات
جب سے وہ مئے بجام آتے ہیں

پاس نعلین کے جگہ دے دیں
قیسی تشنہ کام آتے ہیں

________________

قیسی الفاروقی
دیوریا. ٥ دسمبر٧٥ء
_________________________

Poetry by Qaisi AlFaruqui
Manqabat Maulana Shah Wasiullah Sahab
Find Qaisi Al Faruqui on Facebook.

پیر، 24 فروری، 2014

نظم : یوسفِ گم گشتہ

یوسفِ گم گشتہ

روشنی میری بڑھانے کے لئے آ جانا
پیرہن منه سے ہٹانے لئے مت آنا

گل محبت کے کھلانے کے لئے آ جانا
خار فرقت کے چبھانے کے لئے مت آنا

مجھ کو سینے سے لگانے کے لئے آ جانا
پھول تربت پہ چڑھانے کے لئے مت آنا

اپنی دادی کی دعاؤں کے لئے آ جانا
چھوڑ کر پھر ہمیں جانے کے لئے مت آنا
 
بھائیوں کو تو ہنسانے کے آ جانا
اپنی اماں کو رلانے کے لئے مت آنا
 
اپنی شدو کو منانے کے لئے آ جانا
اس سے آنکھوں کو چرانے کے لئے مت آنا

ناز بھابھی کے اٹھانے کے لئے آ جانا
دور بچوں کو ہٹانے کے لئے مت آنا

دل کی کلیوں کو کھلانے کے لئے آ جانا
اشک دامن پر گرانے کے لئے مت آنا

میرے یوسف میرے گم گشتہ پیارے بیٹے
دل کی ٹھنڈک ہو میری آنکویں کے تارے بیٹے

چاند کے مثل بہت دور ہو گئے ہو بیٹے
پھر بھی آنکھوں کے لئے نور بنے ہو بیٹے

تم جو چمکوگے تو چمکے گا مقدر میرا
نور و نکہت میں نہا جائے گا یہ گھر میرا

اپنے بابو کو میں سینے سے لگا پاؤں گا
اپنی تارا کو کلیجے میں بیٹھا پاؤں گا

یہ نہیں جانتا پر آس لگا رکھی ہے
اب تو ہر وقت یہی دل میں دعا رکھی ہے

شادماں کامراں وہ تم کو جہاں میں رکھے
تم کو اللہ حفاظت میں اماں میں رکھے

قیسی الفاروقی
دیوریا، ١٦/ دسمبر ١٩٧٨ء

Qaisi Al Faruqui Poetry
A Poem by Qaisi Al Faruqui
Find Qaisi Al Faruqui on Facebook.

جمعہ، 6 دسمبر، 2013

نظم : پپیہا

پپیہا

ندیاں  گن گن کرتی جائیں
کلیاں بن میں کھلتی جائیں
چڑیاں اپنے راگ سنائیں
من کی آنکھیں کھول پپیہرا
پیئو کی بولی بول پپیہرا
پیئو کی بولی بول پپیہرا

ڈالی ڈالی کلیاں پھوٹیں
اور پیاری ندیاں چھوٹیں
کلیاں پھوٹیں ندیاں چھوٹیں
من کی آنکھیں کھول پپیہرا
پیئو کی بولی بول پپیہرا
پیئو کی بولی بول پپیہرا

رنگ برنگے پھول کھلے ہیں
بھونرے اڑ اڑ کے بیٹھے ہیں
عیش و عشرت اور مزے ہیں
من کی آنکھیں کھول پپیہرا
پیئو کی بولی بول پپیہرا
پیئو کی بولی بول پپیہرا

جنگل جنگل ڈھونڈا تونے
ڈالی ڈالی چیخا تونے
پھر بھی پی نہ پایا تونے
پی کی دھن انمول پپیہرا
پیئو کی بولی بول پپیہرا
پیئو کی بولی بول پپیہرا

تو ہے اپنی دھن کی پکی
پریم نگر میں سب سے سچی
سب سے سچی سب سے اچھی
پیئو کی دھن انمول پپیہرا
پیئو کی بولی بول پپیہرا
پیئو کی بولی بول پپیہرا

اپنے من کی آگ ذرا سی
اپنے جی کی چاہ ذرا سی
مجھ کو دے وہ آہ ذرا سی
میری آنکھیں کھول پپیہرا
پیئو کی بولی بول پپیہرا
پیئو کی بولی بول پپیہرا

قیسی سندر راگ سنائے
راگ سے اپنی آگ لگائے
من سے جی سے سب کو بہلائے
میری آنکھیں کھول پپیہرا
پیئو کی بولی بول پپیہرا
پیئو کی بولی بول پپیہرا

میں بھی اپنے پی کو پکاروں
پی کو پکاروں پی کو دلاروں
پی کی خاطر خود کو سنواروں
میری آنکھیں کھول پپیہرا
پیئو کی بولی بول پپیہرا
پیئو کی بولی بول پپیہرا

پی سے من کی پیاس بجھاؤں
پی سے اپنی آس لگاؤں
پی پی کرتا جگ سے جاؤں
میری آنکھیں کھول پپیہرا
پیئو کی بولی بول پپیہرا
پیئو کی بولی بول پپیہرا



قیسی الفاروقی
کوئریاپار، جولائی ١٩٣٦ء 
 ________________________________

Qaisi AlFaruqui Poetry
Papiha - A Poem by Qaisi AlFaruqui

منگل، 2 اپریل، 2013

آزاد نظم : مرلی کی تان

(١)
قدم کے نیچے کھڑی محویت کے عالم میں
تھی ایک گوپی نظر اور سر جھکائے ہوئے
لجا کے اس نے کہا مجھ کو یہ بتائیں حضور
ہے راز کیا کہ ہے مرلی کی تان میں یہ سرور
یہ نغمہ کون سا نغمہ ہے جس کو سنتے ہی
ہوں جیسے سحر زدہ آدمی و خوش طیور
نشاط و کیف کے اور بیخودی کے عالم میں
سکون و کیف کی بارش فضا سے ہوتی ہے
بیان سے جس کے کہ ہم گوپیاں بھی ہیں مجبور
ہر اک تان سے اڑتے ہیں ہوش کے پردے
اک انبساط کے اور سرخوشی کے عالم میں
 
(٢)
سوال سن کے تبسم کے ساتھ فرمایا
یہ جان لے میری مرلی کی تان ازلی ہے
یہ تان ایسی ہے لے جس کی
لافانی ہے
یہ تھی کہ جب نہیں دنیا کا تھا کہیں وجود
یہ باقی ہوگی یہ دنیا نہ ہوگی جب موجود
یہ لے جو سنتی ہے آفاقیت سے ہے معمور
یہ لے جو کرتی ہے تجھ کو زماں مکاں سے دور
یہ لے نہیں ہے تیری زندگی کا ساز ہے یہ
یہ تیری روح کی گہرائیوں کی ہے آواز
یہ تیرے جسم کی رعنائیوں کی ہے آواز
کبھی وہ وقت بھی آتا ہے جب نہیں سنتے
ازل کی تان پر انسان سر نہیں دھنتے
تو اپنی مرلی لگائے لبوں سے آتا ہوں
میں پھر یہ نغمۂ ازلی انہیں سناتا ہوں

قیسی الفاروقی
جونپور، ٢٨ نومبر ٦١
__________________________

Qaisi AlFaruqui Poetry
Murli ki Taan : Azad Nazm by Qaisi AlFaruqui