Ghazal لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Ghazal لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بدھ، 29 جنوری، 2020

Qaisi AlFaruqui :: Ghazal : Jise Dil Samajhta Hai Be-khabar

غزل

جسے دل سمجھتا ہے بے خبر نہیں کچھ بھی اس میں جو غم نہیں
یوں ہی بے حسی میں گزر گئی تو حیات بھی موت سے کم نہیں

میری عمر بھر کی مسرتیں انہیں چار تنکوں پہ تھیں مگر
جو چمن بچا ہے تو باغباں مجھے آشیاں کا بھی غم نہیں

ہیں عبث یہ تیری شکایتیں یہی بیش و کم کی حکایتیں
تجھے خود ہی پاسِ خودی نہیں ترے دل میں اپنا بھرم نہیں

نہ مسرتوں کا خیال ہے نہ مصیبتوں کا ملال ہے
تری ہر خوشی ہے مری خوشی یہی اک خوشی مجھے کم نہیں

وہی تیرا قیسی مبتلا، ترے در پہ تھا جو پڑا ہوا
نہ ہوا ہو مشق غریب پر کوئی ایسا طرزِ ستم نہیں

قیسی الفاروقی

Qaisi AlFaruqui :: Ghazal : Jise Dil Samajhta Hai Be-khabar

پیر، 4 فروری، 2019

Qaisi AlFaruqui :: Ghazal : Sarkashi Bandaie Khuda Hokar

عزل

سرکشی بندۂ خدا ہوکر
آدمی رہ گیا ہے کیا ہوکر

دل کو آئینِ خود فراموشی
تم نے سکھلا دیا ہے خفا ہوکر

زندگی لطف سے گزرتی ہے
لذّتِ غم سے آشنا ہوکر

مرحبا، مرحبا، نگاہِ ناز
درد اٹھنے لگا دوا ہوکر

رندِ معصوم پر ہزار شکوک
پارساؤں کو پارسا ہوکر

ناوک ناز دل میں اے قیسی
رہ گیا جانِ مدعا ہوکر 

قیسی الفاروقی
Shamsul Huda Faruqui Poetry
Ghazal by Shamsul Huda Qaisi AlFaruqui



ہفتہ، 8 دسمبر، 2018

Qaisi AlFaruqui :: Ghazal : Aahon Ko Apni Dekhun

Qaisi Al Faruqui Urdu Poetry
Urdu Ghazal by Shamsul Huda Qaisi AlFaruqui


غزل

آہوں کو اپنی دیکھوں کہ دیکھوں اثر کو میں
دامن بھروں گلوں سے کہ تھاموں جگر کو میں

یہ اضطرابِ شوق ہے یا بخت نارسا
منزل پہ پوچھتا ہوں کہ جاؤں کدھر سے میں

آجاؤ بھی کہ کھلنے کو ہے رازِ زندگی
یہ ہچکیاں جرس ہیں چلا ہوں سفر کو میں

اک سوزِ جاوداں ہوں جہانِ خراب میں
آیا نہیں ہوں جلنے فقط رات بھر کو میں

باقی ہے اگر آن تو کیوں فکرِ جاں کروں
اک مشتِ خاک لوں نہ لٹا کر گہر کو میں

پُر پیچ ہیں حیات کی راہیں تو کیا ہوا
قیسی دکھاؤں راہ ابھی راہبر کو میں

قیسی الفاروقی


منگل، 16 اکتوبر، 2018

Qaisi AlFaruqui :: Ghazal : Bahre Ulfat ka Koi Kinara Nahi

Urdu Ghazal by Shamsul Huda Qaisi AlFaruqui

عزل


بحرِ الفت کا کوئی کنارہ نہیں
جزغمِ عشق کوئی سہارا نہیں

سر کہیں خم ہو ہم کو گوارا نہیں
اور جھک جائے تو سرہمارانہیں

آنکھوں آنکھوں میں کہتےرہے تشنہ لب
کب سے ساقی نے ہم کو پکارا نہیں

سرخ روہم بھی ہوتے جہاں میں مگر
عام راہوں سے چلنا گوارا نہیں

جو مژہ پرلرزکرنہ دم لے سکا
وہ ہے آنسو کا قطرہ ستارہ نہیں

لطف کیا کیا ملاہے تڑپ سے مجھے
جو نہ تڑپے وہ دل مجھ کو پیارا نہیں

ہم نے روروکے قیسی بسرکی مگر
بارِ ہستی کو پھر بھی اتارا نہیں


قیسی الفاروقی

منگل، 11 اپریل، 2017

غزل : چند روزہ حیات ہوتی ہے

غزل

چند روزہ حیات ہوتی ہے
زندگی بے ثبات ہوتی ہے

جو نگاہوں میں بات ہوتی ہے
عشق کی کائنات ہوتی ہے

جلتے رہتے ہیں آنسوؤں کے دیے
ہجر کی ایسی رات ہوتی ہے

جب تعصب جنون بنتا ہے
دوپہر کو بھی رات ہوتی ہے

عشق کی یہ بساط ہے قیسی
اک اشارے میں مات ہوتی ہے

قیسی الفاروقی
___________________________
Find it on Facebook : www.facebook.com/QaisiAlFaruqui
_________________________________________
Ghazal by Shamsul Huda Qaisi AlFaruqui

جمعرات، 12 جنوری، 2017

غزل : جو وقت آیا تو خوں بھی بہا دیا ہم نے

غزل

جو وقت آیا تو خوں بھی بہا دیا ہم نے
وطن کی راہ میں یوں گل کھلا دیا ہم نے

یہ زندگی نہیں غفلت کا ایک پردہ ہے
اٹھے جو دنیا سے پردہ اٹھا دیا ہم نے

غریب بھی کبھی عزت مآب ہوتا ہے
یہ کم نہیں ہے کہ یہ بھی دکھا دیا ہم نے

جو پوچھا اس نے سرمایہٴ حیات ہے کیا
تو داغدار جو دل تھا دکھا دیا ہم نے

بجا کہ جیب و دامن ہیں تار تار مگر
روش روش تو چمن کو سجا دیا ہم نے

جو ہاتھ آئ کبھی ہم کو ہاتھ پھیلا کر
وہ آرزو وہ تمنا مٹا دیا ہم نے

ہجوم غم سے ہوئے ہمکنار جب بھی ہم
تو مسکرا کر شگوفہ کھلا دیا ہم نے

سوال تھا کہ یہ پیری کہاں بسر ہوگی
جواب گورِ غریباں بتا دیا ہم نے

کہا کسی نے کہ قیسی کا ہاتھ خالی ہے
وہیں پہ آنکھ سے موتی گرا دیا ہم نے

قیسی الفاروقی
___________________________
Find it on Facebook : www.facebook.com/QaisiAlFaruqui
_________________________________________
Ghazal by Shamsul Huda Qaisi AlFaruqui

منگل، 15 نومبر، 2016

غزل : بیکسی بن گئی معینِ حیات

غزل

بیکسی   بن    گئی   معینِ   حیات
کیوں  اُٹھائیں  کِسی  کے  احسانات

روح   تن   سے  جُدا   ہوئی   لیکن
زندگی  سے  کہاں  ملی  ہے  نجات

دام     اپنا    سمیٹ    لے     صیاد
پاؤں پکڑے ہوئے ہیں خود  حالات

ہم  کو   راس  آ   گئی   بہارِ   چمن
جیب ودامن سے مِل گئی ہے نجات

ہم    نے    دامن     بچا    لیا    اپنا
آکے  آنکھوں  میں  رُک گئی برسات

زندگی    تاب   و    تپش    کا    دن
موت  تاروں  بھری  حسین  اک رات

پابہ    زنجیر    ہیں    وہی    قیسی
جِن  کو   رہتا   ہے   پاسِ  ممنوعات

قیسی الفاروقی
______________________
Find it on Facebook : www.facebook.com/QaisiAlFaruqui
_____________________________________________
A Ghazal by Qaisi AlFaruqui




پیر، 13 جون، 2016

غزل : جسے دل سمجھتا ہے بے خبر نہیں کچھ بھی اس میں جو غم نہیں

غزل

جسے دل سمجھتا ہے بے خبر نہیں کچھ بھی اس میں جو غم نہیں
یوں ہی بے حسی میں گزر گئی تو حیات بھی موت سے کم نہیں

میری عمر بھر کی مسرتیں انہیں چار تنکوں پہ تھیں مگر    
جو چمن بچا ہے تو باغباں مجھے آشیاں کا بھی غم نہیں     

میں بغیر منتِ راہبر ہوں بلند و پست سے باخبر           
مرا ذوق خود مرا رہنما، میں اسیر نقش قدم نہیں        

ہیں عبث یہ تیری شکایتیں یہی بیش و کم کی حکایتیں     
تجھے خود ہی پاسِ خودی نہیں ترے دل میں اپنا بھرم نہیں

ہے قسم مذاق سجود کی کہ نگاہِ شوق و شعور میں               
وہ جبیں ہے ننگِ جبیں ابھی جو کسی آستاں پہ خم نہیں    

نہ مسرتوں کا خیال ہے نہ مصیبتوں کا ملال ہے             
تری ہر خوشی ہے مری خوشی یہی اک خوشی مجھے کم نہیں 

وہی تیرا قیسی مبتلا، ترے در پہ تھا جو پڑا ہوا                  
نہ ہوا ہو مشق غریب پر کوئی ایسا طرزِ ستم نہیں     

قَیْسِیْ اَلْفَارُوْقِی
____________________________

Qaisi Al Faruqui Poetry
A Ghazal by Qaisi Al Faruqui
Find it on Facebook : www.facebook.com/QaisiAlFaruqui

بدھ، 18 نومبر، 2015

غزل : غمِ عشق کے تصدق یہ عجب مقام آیا

غزل

غمِ عشق کے تصدق یہ عجب مقام آیا
نہ خرد ہی کام آئی نہ جنوں ہی کام آیا

جو سنا تو مختصر تھا غمِ عشق کا فسانہ
کبھی میرا نام آیا،  کبھی تیرا نام آیا

نہ خزاں نے کچھ بگاڑا، نہ بہار نے سنوارا
جو ہیں بے عمل انھیں کو یہ خیالِ خام آیا

تری مصلحت کے قرباں ترے میکدے سے ساقی
کوئی شادکام آیا، کوئی تشنہ کام آیا

مری عرض و التجا پر تری برہمی وہ ساقی
میں گزر گیا خودی سے جو تو مے بجام آیا

جو لہک رہا ہے سبزہ تو چٹک رہا ہے غنچہ
کہ چمن میں سیرِ گل کو کوئی خوش خرام آیا

مرے غم پہ ہنسنے والے نہ سمجھ سکے یہ قیسی
کہ براۓ آب و دانہ کوئی زیرِ دام آیا

قیسی الفاروقی
_____________________

Qaisi AlFaruqui Urdu Poetry
A Ghazal by Qaisi AlFaruqui
Find it on Facebook : www.facebook.com/QaisiAlFaruqui

جمعرات، 22 اکتوبر، 2015

غزل : آہوں کو اپنی دیکھوں کہ دیکھوں اثر کو میں

غزل

آہوں کو اپنی دیکھوں کہ دیکھوں اثر کو میں
دامن بھروں گلوں سے کہ تھاموں جگر کو میں

یہ اضطرابِ شوق ہے یا بخت نارسا     
منزل پہ پوچھتا ہوں کہ جاؤں کدھر سے میں

آجاؤ بھی کہ کھلنے کو ہے رازِ زندگی      
یہ ہچکیاں جرس ہیں چلا ہوں سفر کو میں

اک سوزِ جاوداں ہوں جہانِ خراب میں    
آیا نہیں ہوں جلنے فقط رات بھر کو میں

باقی ہے اگر آن تو کیوں فکرِ جاں کروں  
اک مشتِ خاک لوں نہ لٹا کر گہر کو میں
 
پُر پیچ ہیں حیات کی راہیں تو کیا ہوا  
قیسی دکھاؤں راہ ابھی راہبر کو میں

قیسی الفاروقی
_____________________

Qaisi AlFaruqui Poetry
A Ghazal by Mohammad Shamsul Huda Qaisi AlFaruqui

منگل، 15 ستمبر، 2015

غزل : بحرِ الفت کا کوئی کنارہ نہیں

غزل

بحرِ الفت کا کوئی کنارہ نہیں
جزغمِ عشق کوئی سہارا نہیں

سر کہیں خم ہو ہم کو گوارا نہیں
اور جھک جائے تو سرہمارانہیں

آنکھوں آنکھوں میں کہتےرہے تشنہ لب
کب سے ساقی نے ہم کو پکارا نہیں

سرخ روہم بھی ہوتے جہاں میں مگر
عام راہوں سے چلنا گوارا نہیں

جو مژہ پرلرزکرنہ دم لے سکا
وہ ہے آنسو کا قطرہ ستارہ نہیں

لطف کیا کیا ملاہے تڑپ سے مجھے
جو نہ تڑپے وہ دل مجھ کو پیارا نہیں

ہم نے روروکے قیسی بسرکی مگر
بارِ ہستی کو پھر بھی اتارا نہیں

قیسی الفاروقی
An Urdu Ghazal by Shamsul Huda Qaisi AlFaruqui.
Qaisi AlFaruqui Poetry
Ghazal by Qaisi AlFaruqui
















پیر، 15 اکتوبر، 2012

غزل : جب کسی کا نہ آسرا کرتے

جب کسی کا نہ آسرا کرتے
سجدہٴ شکر ہم ادا کرتے

لب ہلانے کی تاب بھی تو نہیں
کس طرح عرض مدعا کرتے

جب یہ بیگانگی کا عالم ہے
چپ نہ رہتے تو اور کیا کرتے

صبر بھی کرکے دیکھئے کچھ دن
عمر گزری ہے التجا کرتے

کیا خبر تھی کہ یہ اثر ہوگا
کاش ہم آہِ نارسا کرتے

جان و دل تو نثارِ درد کئے
اور کیا درد کی دوا کرتے

خاک پائے وصی سے ہم قیسیٌ
دل کے آئینے کی جلا کرتے
_________
جون پور. دسمبر 1963ء
_____________________

Urdu Poetry by Mohammad Shamsul Huda Faruqui
A Ghazal by Qaisi AlFaruqui
 

پیر، 1 اکتوبر، 2012

غزل : بجا کہ اپنے زمانے کا ہے وہی منصور

بجا کہ اپنے زمانے کا ہے وہی منصور
نگاہِ عشق نے بخشا جسے دماغِ غیور

جو ہاتھ آئے تو کیوں کر متاعِ کیف و سرور
کہ زندگی ہے ابھی سوزوسازِعشق سے دور

نہ کر حیاتِ دو روزہ پہ ناز اے مجبور
کہ راہ دیکھ رہی ہیں قدم قدم پہ قبور

نہ رنج آبلہ پائی نہ آرزوئے سکوں
ہے رہروانِ رہِ عشق کا یہی دستور

جبینِ شوق کو سجدوں کا کیف کافی ہے
یہ بندگی نہیں میری براۓ حور و قصور

چلو ہٹو بھی مسرت کا مجھ سے نام نہ لو
کہ پا رہا ہوں مصائب کی زندگی میں سرور

ہماری آبلہ پائی سے ہٹ سکے جو نظر
تو دیکھ دیدہ و دل پر برس رہا ہے جو نور

روش روش پہ چمن میں ہزار خار سہی
سنبھل کے آپ نہ چلئے تو آپ ہی کا قصور

نہ پوچھ حال غریب الوطن کا اے ہمدم
چمن سے دور عزیزوں کی انجمن سے دور

مرے لئے وہی حاصل ہیں دین و دنیا کی
وہ ساعتیں جو گزاری ہیں میں نے تیرے حضور

گزر رہے ہیں شب و روز اس طرح قیسیٌ
نہ زندگی کا سلیقہ نہ عاقبت کا شعور
_________
مین پوری. اپریل 1968ء
______________________

A Ghazal by Qaisi AlFaruqui
 

جمعہ، 21 ستمبر، 2012

غزل : نامرادی ہے اب تو عینِ حیات

نامرادی ہے اب تو عینِ حیات
کیوں اٹھائیں کسی کے احسانات

روح تن سے جدا ہوئی لیکن
زندگی سے کسے ملے ہے نجات

دام اپنا سمیٹ لے صیاد
پاؤں پکڑے ہوئے ہیں خود حالات

کم نہیں یہ بھی فیضِ موسمِ گل
جیب و دامن سے مل گئی ہے نجات

خیر گزری کھ بچ گیا دامن
آکے آنکھوں میں رک گئی برسات

زندگی تاب و تپش کے دن
موت تاروں بھری حسیں اک رات

ہوں اسیرِ بلا مگر قیسیٌ
کیا رہائی ہے اپنے بس کی بات
_________
پورن پور. مئی 1961ء
____________________

Qaisi AlFaruqui
A Ghazal by Qaisi AlFaruqui
 

منگل، 12 جون، 2012

غزل : جہاں نہ کچھ بنا سکیں خرد کی ساری حکمتیں

جہاں نہ کچھ بنا سکیں خرد کی ساری حکمتیں
وہاں پہ کام آ گئیں خرد کی چند وحشتیں

کبھی نہ کر سکا کوئی بشر کی پست ہمتیں
نہ پستیاں زمین کی نہ آسماں کی رفعتیں

نہ کاوشیں نہ خواہشیں نہ جستجو نہ حسرتیں
کسی کی واسطہ چھٹے گذر چکی ہیں مدتیں

قیامتیں ہوں حسن کی کہ عشق کی سیاستیں
کوئی بھی نام دیجئے ہیں دل کی سب حکایتیں

بشر کے کشت و خون سے زمین لالہ زار ہے
انھیں یہ دھن کہ جیت لیں فلک کی ساری رفعتیں

ان اہل ِ عقل پر اگر نہ روۓ قیسیٌ کیا کرے
نظر میں جن کے آج ہیں فقط خلا کی وسعتیں
_________
پورن پور. اپریل 1961ء
___________________ 
Click to Enlarge
Mohammad Shamsul Huda Qaisi AlFaruqui Poetry

جمعرات، 31 مئی، 2012

غزل : تھا جو ازل ہی سے مکتوب

تھا جو ازل ہی سے مکتوب
ہم سے ہوا ہے سب منسوب

جوش ِ جنوں میں ہوش ہے کب
کون ہے طالب کیا مطلوب

فکر ِ معاش و عشق ِ بتاں
شغل یہی دو ہیں محبوب

ان کی توجہ ان کا کرم ہے
میں جو ہوا ہوں یوں محتوب

کرکے مسخر مہر و ماہ
بھول گیا تسخیر قلوب

عظمتِ انساں بڑھتی جائے
دیکھ سکے گر اپنے عیوب

قیسیٌ طالب ہے یا رب
رکھ مجھ کو غیرالمغضوب
_________
پورن پور. جون 1960ء
___________________
 
Azal by Qaisi AlFaruqui
 

اتوار، 13 مئی، 2012

غزل : جب کلی کوئی مسکرائی ہے

جب کلی کوئی مسکرائی ہے
آنکھ بے ساختہ بھر آئی ہے

ہم ہیں انسان کیوں خطا نہ کریں
جدِّ اعلٰی سے خو یہ پائی ہے

کتنے غنچوں کے دل ہوئے ہیں خوں
جب چمن میں بہار آئی ہے

دور حاضر کے دور رس انساں
تونے دنیا نئی بسائی ہے

بستیاں آج بھی اندھیری ہیں
چاند تک گو تری رسائی ہے

اس ترقی کے دور میں قیسیٌ
مردنی کیوں دلوں پہ چھائی ہے
_________
پورن پور. نومبر 1959ء
________________

Kalaam e Qaisi Al Faruqui

منگل، 1 مئی، 2012

غزل : خلوص عشق کی جب دل میں روشنی نہ رہی

خلوص عشق کی جب دل میں روشنی نہ رہی
تو کیا گلہ ہے کہ پرکیف زندگی نہ رہی

اب التفات کے قابل یہ زندگی نہ رہی
کہ آدمی تو رہے قدر آدمی نہ رہی

سزا جزا کی قائل ہو وہ عبادت تو
خطا معاف تجارت ہے بندگی نہ رہی

فسردہ گل ہیں تو غنچے بھی مضمحل سے ہیں
چمن رہا بھی تو کیا جب وہ دلکشی نہ رہی

سنائیے غم ِ دوراں کے نو بہ نو قصے
فسانۂ غم ِ جاناں میں دلکشی نہ رہی

دل فسردہ کچھ اس طرح سے مٹا قیسیٌ
کہ غم بھی غم نہ رہا اور خوشی خوشی نہ رہی
_________
مودها. جنوری 1955ء
______________
 
Qaisi Al Faruqui Poetry
 

بدھ، 18 اپریل، 2012

غزل : اس شوخ سے ہے دل کو امید کرم ابھی

اس شوخ سے ہے دل کو امید کرم ابھی
سمجھے نہیں فریبِ تمنا کو ہم ابھی

اک سعئی رائگاں ہے یہ ضبطِ الم ابھی
آنکھیں تو خشک ہو گئیں دامن ہے نم ابھی

محتاج و مستعار ہے گل کی شگفتگی
کیا جانتے ہیں گریۂ شبنم کو ہم ابھی

پیر ِ مغاں نہ روک نگاہوں کا فیض ِ عام
ہونا ہر ایک جام کو ہے جام ِ جم ابھی

اہل ِ خرد کو کھو بھی چکے اعتبار ِ عشق
باقی ہے کچھ تو اہل ِ جنوں کا بھرم ابھی

اک سوگوار ِ زیست کو جینے کی آرزو
شاید ہے تشنہ لب مرا ذوق ِ الم ابھی

کچھ اور چاہئے ستم التفات دوست
قیسی غم ِ حیات کی تلخی ہے کم ابھی
_________
رسڑا. جولائی 1952ء
_________________

Shamsul Huda Qaisi Faruqui
 

منگل، 3 اپریل، 2012

کشش عصیاں کی اور اپنی بھی نادانی نہیں جاتی

کشش عصیاں کی اور اپنی بھی نادانی نہیں جاتی
کسی صورت سے بھی یہ خوۓ انسانی نہیں جاتی

وہی ہم تھے کہ فرقِ پاک پر تھا نورِ سبحانی
وہی ہم ہیں کہ اب صورت بھی پہچانی نہیں جاتی

ہجومِ یاس و حرماں بھی ہے لاکھوں حسرتیں بھی ہیں
مگر پھر بھی ہمارے دل کی ویرانی نہیں جاتی
_________
مودها، ہمیرپور. جولائی 1953ء
________________

Qaisi AlFaruqui