Persian Poetry لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Persian Poetry لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعرات، 23 فروری، 2012

غزل : یہ انقلاب عجب کیا جو ایک بار آئے

یہ انقلاب عجب کیا جو ایک بار آئے
کہ دل کے اجڑے ہوئے باغ میں بہار آئے

ہمارے دل ہی میں موجود تھا نہ سمجھے ہم
تمام دیر و حرم جسے پکار آئے

اٹھا کے پھینک دو جام و صراحی و مینا
میں چاہتا ہوں مجھے بے پئے خمار آئے

وفا کا نام یقیناً ڈبو دیا اس نے
جو جاکے کوچہ سے اس کے ذلیل و خوار آئے

وفا پرستی کا دعویٰ بجا سہی قیسیٌ
مگر یہ شرط ہے اس کو بھی اعتبار آئے
_________
دیوریا. نومبر 1947ء
_______________


Qaisi AlFaruqui
 

منگل، 4 اکتوبر، 2011

کلام فارسی : آہ پُر از اثر نمی آید || شرر نمی آید

آہ پُر از اثر نمی آید
نالہ پر از شرر نمی آید

آه و زاری کنم و نالۂ غم
چارہ دیگر نظر نمی آید

بوۓ گل می وزد چہار طرف
بوۓ الفت مگر نمی آید

چوں بداند کہ منتظر ہستم
او ازیں راہگزر نمی آید

جاں بر لب گزاشتم قیسی
حیف او زودتر نمی آید

__________________
لکھنؤ.1939ء
_________________________