جمعہ، 2 مئی، 2014

منقبت : مولیٰنا شاہ وصی اللہ صاحب رحمتہ اللہ عالیہ

مرشدی حضرت مصلح الامت
مولیٰنا شاہ وصی اللہ صاحب رحمتہ اللہ عالیہ



مصلح الامت و وصی اللہ
میرے حضرت کے نام آتے ہیں

ہیں اکابر جہاں میں جتنے بھی
سب کے ان کو سلام آتے ہیں

ماہِ رمضان میں الہٰ آباد
جو گئے شاد کام آتے ہیں

ان کی مجلس سے پختہ کار اٹھے
گھر میں اپنے جو خام آتے ہیں

مفتی و قاضی و حکیم و عدیل
کوئی تیز گام آتے ہیں

زندگی ہی سنور گئی سب کی
کتنے اچھے نظام آتے ہیں

ان کے در پر حضور قلب لئے
شیخ بااحترام آتے ہیں

صحنِ گلشن میں سیر کرنے کو
کون یہ خوش خرام آتے ہیں

بارہا وہ جبینِ شوق لئے
سوئے بیت الحرام آتے ہیں

رہبرِ دیں جدھر سے گزرے ہیں
چھوڑ نقشِ دوام آتے ہیں

جس سے روشن ہوئے سراج الحق
وہی عالی مقام آتے ہیں

معرفت حق کی جس نے بخشی ہے
عارف لاکلام آتے ہیں

بمبئی ہو کہ وہ علی گڑھ ہو
دیکھنے ازدحام آتے ہیں

ہر جگہ مرجع خلائق ہیں
ملحِ  خاص و عام آتے ہیں

وہ طریقت ہویا شریعت ہو
ان کے فیضان کام آتے ہیں

بات جو بھی خلافِ سنّت ہو
اس پہ وہ بے نیام آتے ہیں

ہیں جلو میں مہ و نجوم کئی
جب وہ ذی احتشام آتے ہیں

نور ہی نور ہیں جدھر دیکھو
جلوہ آرائے بام آتے ہیں

ساتھ ہی ان کے ہے کتابِِ مبیں
اور قاری امام آتے ہیں

حضرت عبدالحکیم و جامی کو
ہمرہی کے پیام آتے ہیں

ساتھ قمرالزماں ہیں جلوہ نما
جب وہ بدرالتمام آتے ہیں

مشوروں کے لئے صلاح الدین
کرکے کچھ اہتمام آتے ہیں

بھائی عبدالولی  کی بن آئ
جب وہ عالی مقام آتے ہیں

چل رہی ہے سبیلِ آبِِ حیات
جب سے وہ مئے بجام آتے ہیں

پاس نعلین کے جگہ دے دیں
قیسی تشنہ کام آتے ہیں

________________

قیسی الفاروقی
دیوریا. ٥ دسمبر٧٥ء
_________________________

Poetry by Qaisi AlFaruqui
Manqabat Maulana Shah Wasiullah Sahab
Find Qaisi Al Faruqui on Facebook.

پیر، 24 فروری، 2014

نظم : یوسفِ گم گشتہ

یوسفِ گم گشتہ

روشنی میری بڑھانے کے لئے آ جانا
پیرہن منه سے ہٹانے لئے مت آنا

گل محبت کے کھلانے کے لئے آ جانا
خار فرقت کے چبھانے کے لئے مت آنا

مجھ کو سینے سے لگانے کے لئے آ جانا
پھول تربت پہ چڑھانے کے لئے مت آنا

اپنی دادی کی دعاؤں کے لئے آ جانا
چھوڑ کر پھر ہمیں جانے کے لئے مت آنا
 
بھائیوں کو تو ہنسانے کے آ جانا
اپنی اماں کو رلانے کے لئے مت آنا
 
اپنی شدو کو منانے کے لئے آ جانا
اس سے آنکھوں کو چرانے کے لئے مت آنا

ناز بھابھی کے اٹھانے کے لئے آ جانا
دور بچوں کو ہٹانے کے لئے مت آنا

دل کی کلیوں کو کھلانے کے لئے آ جانا
اشک دامن پر گرانے کے لئے مت آنا

میرے یوسف میرے گم گشتہ پیارے بیٹے
دل کی ٹھنڈک ہو میری آنکویں کے تارے بیٹے

چاند کے مثل بہت دور ہو گئے ہو بیٹے
پھر بھی آنکھوں کے لئے نور بنے ہو بیٹے

تم جو چمکوگے تو چمکے گا مقدر میرا
نور و نکہت میں نہا جائے گا یہ گھر میرا

اپنے بابو کو میں سینے سے لگا پاؤں گا
اپنی تارا کو کلیجے میں بیٹھا پاؤں گا

یہ نہیں جانتا پر آس لگا رکھی ہے
اب تو ہر وقت یہی دل میں دعا رکھی ہے

شادماں کامراں وہ تم کو جہاں میں رکھے
تم کو اللہ حفاظت میں اماں میں رکھے

قیسی الفاروقی
دیوریا، ١٦/ دسمبر ١٩٧٨ء

Qaisi Al Faruqui Poetry
A Poem by Qaisi Al Faruqui
Find Qaisi Al Faruqui on Facebook.

جمعہ، 6 دسمبر، 2013

نظم : پپیہا

پپیہا

ندیاں  گن گن کرتی جائیں
کلیاں بن میں کھلتی جائیں
چڑیاں اپنے راگ سنائیں
من کی آنکھیں کھول پپیہرا
پیئو کی بولی بول پپیہرا
پیئو کی بولی بول پپیہرا

ڈالی ڈالی کلیاں پھوٹیں
اور پیاری ندیاں چھوٹیں
کلیاں پھوٹیں ندیاں چھوٹیں
من کی آنکھیں کھول پپیہرا
پیئو کی بولی بول پپیہرا
پیئو کی بولی بول پپیہرا

رنگ برنگے پھول کھلے ہیں
بھونرے اڑ اڑ کے بیٹھے ہیں
عیش و عشرت اور مزے ہیں
من کی آنکھیں کھول پپیہرا
پیئو کی بولی بول پپیہرا
پیئو کی بولی بول پپیہرا

جنگل جنگل ڈھونڈا تونے
ڈالی ڈالی چیخا تونے
پھر بھی پی نہ پایا تونے
پی کی دھن انمول پپیہرا
پیئو کی بولی بول پپیہرا
پیئو کی بولی بول پپیہرا

تو ہے اپنی دھن کی پکی
پریم نگر میں سب سے سچی
سب سے سچی سب سے اچھی
پیئو کی دھن انمول پپیہرا
پیئو کی بولی بول پپیہرا
پیئو کی بولی بول پپیہرا

اپنے من کی آگ ذرا سی
اپنے جی کی چاہ ذرا سی
مجھ کو دے وہ آہ ذرا سی
میری آنکھیں کھول پپیہرا
پیئو کی بولی بول پپیہرا
پیئو کی بولی بول پپیہرا

قیسی سندر راگ سنائے
راگ سے اپنی آگ لگائے
من سے جی سے سب کو بہلائے
میری آنکھیں کھول پپیہرا
پیئو کی بولی بول پپیہرا
پیئو کی بولی بول پپیہرا

میں بھی اپنے پی کو پکاروں
پی کو پکاروں پی کو دلاروں
پی کی خاطر خود کو سنواروں
میری آنکھیں کھول پپیہرا
پیئو کی بولی بول پپیہرا
پیئو کی بولی بول پپیہرا

پی سے من کی پیاس بجھاؤں
پی سے اپنی آس لگاؤں
پی پی کرتا جگ سے جاؤں
میری آنکھیں کھول پپیہرا
پیئو کی بولی بول پپیہرا
پیئو کی بولی بول پپیہرا



قیسی الفاروقی
کوئریاپار، جولائی ١٩٣٦ء 
 ________________________________

Qaisi AlFaruqui Poetry
Papiha - A Poem by Qaisi AlFaruqui

ہفتہ، 26 اکتوبر، 2013

نظم : تکیہ

مجھ سے پچن نے ایک دن یہ کہا
آپ کا داغدار ہے تکیہ
 
جی یہ سچ ہے، جواب میں نے دیا
آپ پر کیوں بار ہے تکیہ
 
یہ تو ساتھی ہے میرے بچپن کا
اور پیری کا یار ہے تکیہ
 
میں بھی دبلا ہوں یہ بھی پتلا ہے
کس قدر خاکسار ہے تکیہ
 
نیند آتی نہیں ہے خشکی سے
مفت میں شرمسار ہے تکیہ
 
کچھ دنوں بعد پھر بہو نے میری
بھیجا اک شاندار ہے تکیہ
 
اور محنت سے دست کاری سے
واقعی شاہکار ہے تکیہ
 
میں نے بے ساختہ کہا پا کر
واہ کیا شاندار ہے تکیہ
 
روئی سیمل کی اس میں ہے بھرپور
اور بہت جاندار ہے تکیہ
 
کھو گیا ہوں میں بیل بوٹوں میں
رشکِ باغ و بہار ہے تکیہ
 
سر کو رکھتے ہی نیند آتی ہے
ایک بیٹی کا پیار ہے تکیہ
 
شاد و خرم رہو گی سلطانہ
میرے دل کا قرار ہے تکیہ
 
تم کو انعام کچھ نہیں دیتا
یوں سمجھنا ادھار ہے تکیہ


قیسی الفاروقی

جونپور
٣١ اگست ١٩٦١

___________________________ 

Urdu Poetry by Qaisi AlFaruqui
Takiya, the pillow, a poem by Qaisi AlFaruqui
Urdu Poetry by Qaisi AlFaruqui

جمعہ، 7 جون، 2013

نظم : وبالی پتلون

کتنی حسرت سے میں غیروں کو تکا کرتا تھا
ایک پتلون کی بس دل سے دعا کرتا تھا
شیروانی سے میں شرمندہ ہوا کرتا تھا
آرزو دل میں یہی ایک رکھا کرتا تھا
کتنے دن پہنے رہا ایک خیالی پتلون

پھر چچا جان نے پورا کیا میرا سپنا
ان سے دیکھا نہ گیا روز کا میرا تپنا
دے دیا سلک کا اک سوٹ پرانا اپنا
اس طرح بند ہوا پینٹ کا مالا جپنا
اپنے سینے سے وہیں میں نے لگا لی پتلون

جا بجا جب وہ مسکتی تھی مسک جانے دی
پیٹ سے نیچے کھسکتی تھی کھسک جانے دی
کبھی ایڑی میں جو اٹکی تو اٹک جانے دی
جسم پر اپنے کسی طرح چپک جانے دی
اس طرح پہلے پہل میں نے سنبھالی پتلون

لکھنؤ میں بھی بزرگوں کا چلن یاد رہا
ان سے کچھ دور بھی تھا اس لئے آزاد رہا
جیب بھی گرم تھی، میں اس سے بہت شاد رہا
اور فیشن تو ہمیشہ ستم ایجاد رہا
میں نے گڈفٹ کے یہاں ایک سلالی پتلون

 سگرٹیں پینے لگا چائے کا بیمار بنا
کچھ گلا اچھا تھا فلموں کا پرستار بنا
اک تخلص بھی رکھا خالق اشعار بنا
زین مکھن کی خریدی تو طرحدار بنا
اور سرما میں سلائی گئی کالی پتلون

اور خیر سے جب ہو گئی میری شادی
مجھ کو پتلون پہنے کی ملی آزادی
کوٹ پتلون پہنے کا ہوا میں عادی
مجھ پہ قربان ہوئیں بیوی کی بوڑھی دادی
کتنی مرغوب ہوئی دیکھ کے سالی پتلون


قیسی الفاروقی
پورن پور،٦ مئی ٦١
______________________________________

Wabali Patlun by Qaisi Al Faruqui

منگل، 2 اپریل، 2013

آزاد نظم : مرلی کی تان

(١)
قدم کے نیچے کھڑی محویت کے عالم میں
تھی ایک گوپی نظر اور سر جھکائے ہوئے
لجا کے اس نے کہا مجھ کو یہ بتائیں حضور
ہے راز کیا کہ ہے مرلی کی تان میں یہ سرور
یہ نغمہ کون سا نغمہ ہے جس کو سنتے ہی
ہوں جیسے سحر زدہ آدمی و خوش طیور
نشاط و کیف کے اور بیخودی کے عالم میں
سکون و کیف کی بارش فضا سے ہوتی ہے
بیان سے جس کے کہ ہم گوپیاں بھی ہیں مجبور
ہر اک تان سے اڑتے ہیں ہوش کے پردے
اک انبساط کے اور سرخوشی کے عالم میں
 
(٢)
سوال سن کے تبسم کے ساتھ فرمایا
یہ جان لے میری مرلی کی تان ازلی ہے
یہ تان ایسی ہے لے جس کی
لافانی ہے
یہ تھی کہ جب نہیں دنیا کا تھا کہیں وجود
یہ باقی ہوگی یہ دنیا نہ ہوگی جب موجود
یہ لے جو سنتی ہے آفاقیت سے ہے معمور
یہ لے جو کرتی ہے تجھ کو زماں مکاں سے دور
یہ لے نہیں ہے تیری زندگی کا ساز ہے یہ
یہ تیری روح کی گہرائیوں کی ہے آواز
یہ تیرے جسم کی رعنائیوں کی ہے آواز
کبھی وہ وقت بھی آتا ہے جب نہیں سنتے
ازل کی تان پر انسان سر نہیں دھنتے
تو اپنی مرلی لگائے لبوں سے آتا ہوں
میں پھر یہ نغمۂ ازلی انہیں سناتا ہوں

قیسی الفاروقی
جونپور، ٢٨ نومبر ٦١
__________________________

Qaisi AlFaruqui Poetry
Murli ki Taan : Azad Nazm by Qaisi AlFaruqui

جمعہ، 8 مارچ، 2013

نظم 'نامہ و پیام' سے

ظفر جو گھر میں آ گئے، شرارتوں کی دھوم ہے
ذرا جو ان کو ٹوک دو تو اشک کا ہجوم ہے

کبھی وہ جانماز کو گھسیٹ کر گرائیں گے
کبھی وہ جوتیوں سمیت اس پہ بیٹھ جائیں گے

ادھر یہ کر رہے ہیں اور فخر کا حال دیکھئے
دبا کے منھ میں دانت سے وہ جوتیاں لئے ہوئے

چلے ہیں مست مست سے کہ خوب یہ غذا ملی
ادھر ظفر کی غلطیوں پہ ان کو گر سزا ملی

تو پھر غموں کے بادلوں میں شور وہ مچائیں گے
کہ گھر کو چیخ چیخ کر وہ سر ہی پہ اٹھائیں گے

قیسی الفاروقی

دیوریا، ٣٠ نومبر ٧٥
_______________________

Qaisi AlFaruqui