جمعرات، 12 جنوری، 2017

غزل : جو وقت آیا تو خوں بھی بہا دیا ہم نے

غزل

جو وقت آیا تو خوں بھی بہا دیا ہم نے
وطن کی راہ میں یوں گل کھلا دیا ہم نے

یہ زندگی نہیں غفلت کا ایک پردہ ہے
اٹھے جو دنیا سے پردہ اٹھا دیا ہم نے

غریب بھی کبھی عزت مآب ہوتا ہے
یہ کم نہیں ہے کہ یہ بھی دکھا دیا ہم نے

جو پوچھا اس نے سرمایہٴ حیات ہے کیا
تو داغدار جو دل تھا دکھا دیا ہم نے

بجا کہ جیب و دامن ہیں تار تار مگر
روش روش تو چمن کو سجا دیا ہم نے

جو ہاتھ آئ کبھی ہم کو ہاتھ پھیلا کر
وہ آرزو وہ تمنا مٹا دیا ہم نے

ہجوم غم سے ہوئے ہمکنار جب بھی ہم
تو مسکرا کر شگوفہ کھلا دیا ہم نے

سوال تھا کہ یہ پیری کہاں بسر ہوگی
جواب گورِ غریباں بتا دیا ہم نے

کہا کسی نے کہ قیسی کا ہاتھ خالی ہے
وہیں پہ آنکھ سے موتی گرا دیا ہم نے

قیسی الفاروقی
___________________________
Find it on Facebook : www.facebook.com/QaisiAlFaruqui
_________________________________________
Ghazal by Shamsul Huda Qaisi AlFaruqui

منگل، 15 نومبر، 2016

غزل : بیکسی بن گئی معینِ حیات

غزل

بیکسی   بن    گئی   معینِ   حیات
کیوں  اُٹھائیں  کِسی  کے  احسانات

روح   تن   سے  جُدا   ہوئی   لیکن
زندگی  سے  کہاں  ملی  ہے  نجات

دام     اپنا    سمیٹ    لے     صیاد
پاؤں پکڑے ہوئے ہیں خود  حالات

ہم  کو   راس  آ   گئی   بہارِ   چمن
جیب ودامن سے مِل گئی ہے نجات

ہم    نے    دامن     بچا    لیا    اپنا
آکے  آنکھوں  میں  رُک گئی برسات

زندگی    تاب   و    تپش    کا    دن
موت  تاروں  بھری  حسین  اک رات

پابہ    زنجیر    ہیں    وہی    قیسی
جِن  کو   رہتا   ہے   پاسِ  ممنوعات

قیسی الفاروقی
______________________
Find it on Facebook : www.facebook.com/QaisiAlFaruqui
_____________________________________________
A Ghazal by Qaisi AlFaruqui




پیر، 13 جون، 2016

غزل : جسے دل سمجھتا ہے بے خبر نہیں کچھ بھی اس میں جو غم نہیں

غزل

جسے دل سمجھتا ہے بے خبر نہیں کچھ بھی اس میں جو غم نہیں
یوں ہی بے حسی میں گزر گئی تو حیات بھی موت سے کم نہیں

میری عمر بھر کی مسرتیں انہیں چار تنکوں پہ تھیں مگر    
جو چمن بچا ہے تو باغباں مجھے آشیاں کا بھی غم نہیں     

میں بغیر منتِ راہبر ہوں بلند و پست سے باخبر           
مرا ذوق خود مرا رہنما، میں اسیر نقش قدم نہیں        

ہیں عبث یہ تیری شکایتیں یہی بیش و کم کی حکایتیں     
تجھے خود ہی پاسِ خودی نہیں ترے دل میں اپنا بھرم نہیں

ہے قسم مذاق سجود کی کہ نگاہِ شوق و شعور میں               
وہ جبیں ہے ننگِ جبیں ابھی جو کسی آستاں پہ خم نہیں    

نہ مسرتوں کا خیال ہے نہ مصیبتوں کا ملال ہے             
تری ہر خوشی ہے مری خوشی یہی اک خوشی مجھے کم نہیں 

وہی تیرا قیسی مبتلا، ترے در پہ تھا جو پڑا ہوا                  
نہ ہوا ہو مشق غریب پر کوئی ایسا طرزِ ستم نہیں     

قَیْسِیْ اَلْفَارُوْقِی
____________________________

Qaisi Al Faruqui Poetry
A Ghazal by Qaisi Al Faruqui
Find it on Facebook : www.facebook.com/QaisiAlFaruqui

بدھ، 20 جنوری، 2016

نظم : جھنڈا

جھنڈا

پریم کی آؤ نگری بسائیں
راگ سے اپنے غم کو بھلائیں
پریت کا سب کو گیت سنائیں
آؤ ہم تم مل کر گائیں
ہند کا پیارا پیارا جھنڈا، ہند کا راج دلارا جھنڈا
ساری دنیا میں لہرائیں

آپس کے سب فرق مٹائیں
آزادی کو دھرم بنائیں
آزادی ہی کے گن گائیں
تن من دھن سب کچھ ہی لٹائیں
ہند کا پیارا پیارا جھنڈا، ہند کا راج دلارا جھنڈا
ساری دنیا میں لہرائیں

اونچے اونچے محلوں والے
تاجوں والے تختوں والے
خود غرضی کے سب متوالے
تو بھی گا دھن دولت والے
ہند کا پیارا پیارا جھنڈا، ہند کا راج دلارا جھنڈا
ساری دنیا میں لہرائیں

دولت دیش کی اپنی کر لیں
جھولی مسکینوں کی بھر دیں
دکھیوں کی ہم سیوا کر لیں
سب کو خوش و خرم کر دیں
ہند کا پیارا پیارا جھنڈا، ہند کا راج دلارا جھنڈا
ساری دنیا میں لہرائیں

دکھیا بپا  کا نام مٹا دیں
سکھ کا جگ میں راج چلا دیں
درویش پجاری زور دکھا دیں
آزادی کی دھوم مچا دیں
ہند کا پیارا پیارا جھنڈا، ہند کا راج دلارا جھنڈا
ساری دنیا میں لہرائیں

قیسی الفاروقی
_____________________

Shamsul Huda Qaisi Al Faruqui Poetry
A Poem by Qaisi Al Faruqui
Find Qaisi Al Faruqui on Facebook.

بدھ، 18 نومبر، 2015

غزل : غمِ عشق کے تصدق یہ عجب مقام آیا

غزل

غمِ عشق کے تصدق یہ عجب مقام آیا
نہ خرد ہی کام آئی نہ جنوں ہی کام آیا

جو سنا تو مختصر تھا غمِ عشق کا فسانہ
کبھی میرا نام آیا،  کبھی تیرا نام آیا

نہ خزاں نے کچھ بگاڑا، نہ بہار نے سنوارا
جو ہیں بے عمل انھیں کو یہ خیالِ خام آیا

تری مصلحت کے قرباں ترے میکدے سے ساقی
کوئی شادکام آیا، کوئی تشنہ کام آیا

مری عرض و التجا پر تری برہمی وہ ساقی
میں گزر گیا خودی سے جو تو مے بجام آیا

جو لہک رہا ہے سبزہ تو چٹک رہا ہے غنچہ
کہ چمن میں سیرِ گل کو کوئی خوش خرام آیا

مرے غم پہ ہنسنے والے نہ سمجھ سکے یہ قیسی
کہ براۓ آب و دانہ کوئی زیرِ دام آیا

قیسی الفاروقی
_____________________

Qaisi AlFaruqui Urdu Poetry
A Ghazal by Qaisi AlFaruqui
Find it on Facebook : www.facebook.com/QaisiAlFaruqui

جمعرات، 22 اکتوبر، 2015

غزل : آہوں کو اپنی دیکھوں کہ دیکھوں اثر کو میں

غزل

آہوں کو اپنی دیکھوں کہ دیکھوں اثر کو میں
دامن بھروں گلوں سے کہ تھاموں جگر کو میں

یہ اضطرابِ شوق ہے یا بخت نارسا     
منزل پہ پوچھتا ہوں کہ جاؤں کدھر سے میں

آجاؤ بھی کہ کھلنے کو ہے رازِ زندگی      
یہ ہچکیاں جرس ہیں چلا ہوں سفر کو میں

اک سوزِ جاوداں ہوں جہانِ خراب میں    
آیا نہیں ہوں جلنے فقط رات بھر کو میں

باقی ہے اگر آن تو کیوں فکرِ جاں کروں  
اک مشتِ خاک لوں نہ لٹا کر گہر کو میں
 
پُر پیچ ہیں حیات کی راہیں تو کیا ہوا  
قیسی دکھاؤں راہ ابھی راہبر کو میں

قیسی الفاروقی
_____________________

Qaisi AlFaruqui Poetry
A Ghazal by Mohammad Shamsul Huda Qaisi AlFaruqui

منگل، 15 ستمبر، 2015

غزل : بحرِ الفت کا کوئی کنارہ نہیں

غزل

بحرِ الفت کا کوئی کنارہ نہیں
جزغمِ عشق کوئی سہارا نہیں

سر کہیں خم ہو ہم کو گوارا نہیں
اور جھک جائے تو سرہمارانہیں

آنکھوں آنکھوں میں کہتےرہے تشنہ لب
کب سے ساقی نے ہم کو پکارا نہیں

سرخ روہم بھی ہوتے جہاں میں مگر
عام راہوں سے چلنا گوارا نہیں

جو مژہ پرلرزکرنہ دم لے سکا
وہ ہے آنسو کا قطرہ ستارہ نہیں

لطف کیا کیا ملاہے تڑپ سے مجھے
جو نہ تڑپے وہ دل مجھ کو پیارا نہیں

ہم نے روروکے قیسی بسرکی مگر
بارِ ہستی کو پھر بھی اتارا نہیں

قیسی الفاروقی
An Urdu Ghazal by Shamsul Huda Qaisi AlFaruqui.
Qaisi AlFaruqui Poetry
Ghazal by Qaisi AlFaruqui