بدھ، 20 جنوری، 2016

نظم : جھنڈا

جھنڈا

پریم کی آؤ نگری بسائیں
راگ سے اپنے غم کو بھلائیں
پریت کا سب کو گیت سنائیں
آؤ ہم تم مل کر گائیں
ہند کا پیارا پیارا جھنڈا، ہند کا راج دلارا جھنڈا
ساری دنیا میں لہرائیں

آپس کے سب فرق مٹائیں
آزادی کو دھرم بنائیں
آزادی ہی کے گن گائیں
تن من دھن سب کچھ ہی لٹائیں
ہند کا پیارا پیارا جھنڈا، ہند کا راج دلارا جھنڈا
ساری دنیا میں لہرائیں

اونچے اونچے محلوں والے
تاجوں والے تختوں والے
خود غرضی کے سب متوالے
تو بھی گا دھن دولت والے
ہند کا پیارا پیارا جھنڈا، ہند کا راج دلارا جھنڈا
ساری دنیا میں لہرائیں

دولت دیش کی اپنی کر لیں
جھولی مسکینوں کی بھر دیں
دکھیوں کی ہم سیوا کر لیں
سب کو خوش و خرم کر دیں
ہند کا پیارا پیارا جھنڈا، ہند کا راج دلارا جھنڈا
ساری دنیا میں لہرائیں

دکھیا بپا  کا نام مٹا دیں
سکھ کا جگ میں راج چلا دیں
درویش پجاری زور دکھا دیں
آزادی کی دھوم مچا دیں
ہند کا پیارا پیارا جھنڈا، ہند کا راج دلارا جھنڈا
ساری دنیا میں لہرائیں

قیسی الفاروقی
_____________________

Shamsul Huda Qaisi Al Faruqui Poetry
A Poem by Qaisi Al Faruqui
Find Qaisi Al Faruqui on Facebook.

بدھ، 18 نومبر، 2015

غزل : غمِ عشق کے تصدق یہ عجب مقام آیا

غزل

غمِ عشق کے تصدق یہ عجب مقام آیا
نہ خرد ہی کام آئی نہ جنوں ہی کام آیا

جو سنا تو مختصر تھا غمِ عشق کا فسانہ
کبھی میرا نام آیا،  کبھی تیرا نام آیا

نہ خزاں نے کچھ بگاڑا، نہ بہار نے سنوارا
جو ہیں بے عمل انھیں کو یہ خیالِ خام آیا

تری مصلحت کے قرباں ترے میکدے سے ساقی
کوئی شادکام آیا، کوئی تشنہ کام آیا

مری عرض و التجا پر تری برہمی وہ ساقی
میں گزر گیا خودی سے جو تو مے بجام آیا

جو لہک رہا ہے سبزہ تو چٹک رہا ہے غنچہ
کہ چمن میں سیرِ گل کو کوئی خوش خرام آیا

مرے غم پہ ہنسنے والے نہ سمجھ سکے یہ قیسی
کہ براۓ آب و دانہ کوئی زیرِ دام آیا

قیسی الفاروقی
_____________________

Qaisi AlFaruqui Urdu Poetry
A Ghazal by Qaisi AlFaruqui
Find it on Facebook : www.facebook.com/QaisiAlFaruqui

جمعرات، 22 اکتوبر، 2015

غزل : آہوں کو اپنی دیکھوں کہ دیکھوں اثر کو میں

غزل

آہوں کو اپنی دیکھوں کہ دیکھوں اثر کو میں
دامن بھروں گلوں سے کہ تھاموں جگر کو میں

یہ اضطرابِ شوق ہے یا بخت نارسا     
منزل پہ پوچھتا ہوں کہ جاؤں کدھر سے میں

آجاؤ بھی کہ کھلنے کو ہے رازِ زندگی      
یہ ہچکیاں جرس ہیں چلا ہوں سفر کو میں

اک سوزِ جاوداں ہوں جہانِ خراب میں    
آیا نہیں ہوں جلنے فقط رات بھر کو میں

باقی ہے اگر آن تو کیوں فکرِ جاں کروں  
اک مشتِ خاک لوں نہ لٹا کر گہر کو میں
 
پُر پیچ ہیں حیات کی راہیں تو کیا ہوا  
قیسی دکھاؤں راہ ابھی راہبر کو میں

قیسی الفاروقی
_____________________

Qaisi AlFaruqui Poetry
A Ghazal by Mohammad Shamsul Huda Qaisi AlFaruqui

منگل، 15 ستمبر، 2015

غزل : بحرِ الفت کا کوئی کنارہ نہیں

غزل

بحرِ الفت کا کوئی کنارہ نہیں
جزغمِ عشق کوئی سہارا نہیں

سر کہیں خم ہو ہم کو گوارا نہیں
اور جھک جائے تو سرہمارانہیں

آنکھوں آنکھوں میں کہتےرہے تشنہ لب
کب سے ساقی نے ہم کو پکارا نہیں

سرخ روہم بھی ہوتے جہاں میں مگر
عام راہوں سے چلنا گوارا نہیں

جو مژہ پرلرزکرنہ دم لے سکا
وہ ہے آنسو کا قطرہ ستارہ نہیں

لطف کیا کیا ملاہے تڑپ سے مجھے
جو نہ تڑپے وہ دل مجھ کو پیارا نہیں

ہم نے روروکے قیسی بسرکی مگر
بارِ ہستی کو پھر بھی اتارا نہیں

قیسی الفاروقی
An Urdu Ghazal by Shamsul Huda Qaisi AlFaruqui.
Qaisi AlFaruqui Poetry
Ghazal by Qaisi AlFaruqui
















پیر، 8 جون، 2015

نعت : شاید کہ ہوں در پردہ الفاظ و معانی بھی

نعت کے تین اشعار

شاید  کہ  ہوں  در پردہ  الفاظ  و  معانی  بھی
اک نعت یہ حاضر ہے اشکوں کی زبانی بھی

تھمتے ہی نہیں آنسو عصیاں کے تصور سے
نعمت ہے بڑی نعمت اشکوں کی روانی بھی

احباب سے اب کہہ دو آ جائیں وضو کر کے
سرکار کے شاعر کی  میت ہے اٹھانی   بھی
قیسی الفاروقی

__________

 قلب کے دورے کے بعد حضرتِ والا کو لکھ کر بھیجا
دیوریا. 7 جولائی، 78ء
____________________________

Qaisi Al Faruqui Urdu Poetry
A Naat by Qaisi Al Faruqui

جمعرات، 19 جون، 2014

نعت : لب پہ میرے درود و سلام آ گیا

نعت شریف

لب پہ میرے درود و سلام آ گیا
جب زباں پہ محمد کا نام آ گیا

آپ تشریف لائے مدینے میں جب
لوگ کہتے تھے ماہ تمام آ گیا

مجھ کو راہوں میں پلکیں بچھانے تو دو
اے مدینہ کی گلیو غلام آ گیا

جان اپنی مدینہ پہ دوں تو کہوں
جذب کامل مرا کچھ تو کام آ گیا

چاہتا ہوں میں آقا کرم کی نظر
فکر و شبہات کا ازدحام آ گیا

اس کو رہتی ہے کب ماسوا کی خبر
جس کے ہاتھوں میں وحدت کا جام آ گیا

جلوہ گاہ رسالت ہے پیش نظر
سر بہ سجدہ ہے دل وہ مقام آ گیا

روضۂ پاک سر چشمۂ فیض ہے
تشنہ لب جو گیا شادکام آ گیا

حیف قیسیٌ زیارت سے محروم ہے
دور منزل ہے اور وقت شام آ گیا

قیسی الفاروقی
_______________________

Qaisi Al Faruqui Poetry
A Na'at by Qaisi Al Faruqui

جمعہ، 2 مئی، 2014

منقبت : مولیٰنا شاہ وصی اللہ صاحب رحمتہ اللہ عالیہ

مرشدی حضرت مصلح الامت
مولیٰنا شاہ وصی اللہ صاحب رحمتہ اللہ عالیہ



مصلح الامت و وصی اللہ
میرے حضرت کے نام آتے ہیں

ہیں اکابر جہاں میں جتنے بھی
سب کے ان کو سلام آتے ہیں

ماہِ رمضان میں الہٰ آباد
جو گئے شاد کام آتے ہیں

ان کی مجلس سے پختہ کار اٹھے
گھر میں اپنے جو خام آتے ہیں

مفتی و قاضی و حکیم و عدیل
کوئی تیز گام آتے ہیں

زندگی ہی سنور گئی سب کی
کتنے اچھے نظام آتے ہیں

ان کے در پر حضور قلب لئے
شیخ بااحترام آتے ہیں

صحنِ گلشن میں سیر کرنے کو
کون یہ خوش خرام آتے ہیں

بارہا وہ جبینِ شوق لئے
سوئے بیت الحرام آتے ہیں

رہبرِ دیں جدھر سے گزرے ہیں
چھوڑ نقشِ دوام آتے ہیں

جس سے روشن ہوئے سراج الحق
وہی عالی مقام آتے ہیں

معرفت حق کی جس نے بخشی ہے
عارف لاکلام آتے ہیں

بمبئی ہو کہ وہ علی گڑھ ہو
دیکھنے ازدحام آتے ہیں

ہر جگہ مرجع خلائق ہیں
ملحِ  خاص و عام آتے ہیں

وہ طریقت ہویا شریعت ہو
ان کے فیضان کام آتے ہیں

بات جو بھی خلافِ سنّت ہو
اس پہ وہ بے نیام آتے ہیں

ہیں جلو میں مہ و نجوم کئی
جب وہ ذی احتشام آتے ہیں

نور ہی نور ہیں جدھر دیکھو
جلوہ آرائے بام آتے ہیں

ساتھ ہی ان کے ہے کتابِِ مبیں
اور قاری امام آتے ہیں

حضرت عبدالحکیم و جامی کو
ہمرہی کے پیام آتے ہیں

ساتھ قمرالزماں ہیں جلوہ نما
جب وہ بدرالتمام آتے ہیں

مشوروں کے لئے صلاح الدین
کرکے کچھ اہتمام آتے ہیں

بھائی عبدالولی  کی بن آئ
جب وہ عالی مقام آتے ہیں

چل رہی ہے سبیلِ آبِِ حیات
جب سے وہ مئے بجام آتے ہیں

پاس نعلین کے جگہ دے دیں
قیسی تشنہ کام آتے ہیں

________________

قیسی الفاروقی
دیوریا. ٥ دسمبر٧٥ء
_________________________

Poetry by Qaisi AlFaruqui
Manqabat Maulana Shah Wasiullah Sahab
Find Qaisi Al Faruqui on Facebook.