منگل، 16 اکتوبر، 2018

Qaisi AlFaruqui :: Ghazal : Bahre Ulfat ka Koi Kinara Nahi

Urdu Ghazal by Shamsul Huda Qaisi AlFaruqui

عزل


بحرِ الفت کا کوئی کنارہ نہیں
جزغمِ عشق کوئی سہارا نہیں

سر کہیں خم ہو ہم کو گوارا نہیں
اور جھک جائے تو سرہمارانہیں

آنکھوں آنکھوں میں کہتےرہے تشنہ لب
کب سے ساقی نے ہم کو پکارا نہیں

سرخ روہم بھی ہوتے جہاں میں مگر
عام راہوں سے چلنا گوارا نہیں

جو مژہ پرلرزکرنہ دم لے سکا
وہ ہے آنسو کا قطرہ ستارہ نہیں

لطف کیا کیا ملاہے تڑپ سے مجھے
جو نہ تڑپے وہ دل مجھ کو پیارا نہیں

ہم نے روروکے قیسی بسرکی مگر
بارِ ہستی کو پھر بھی اتارا نہیں


قیسی الفاروقی

ہفتہ، 17 جون، 2017

نعت شریف : لب پہ میرے درود و سلام آ گیا

Naat-e-Rasool by Qaisi AlFaruqui

نعت شریف

لب پہ میرے درود و سلام آ گیا
جب زباں پہ محمد کا نام آ گیا

آپ تشریف لائے مدینے میں جب
لوگ کہتے تھے ماہِ تمام آ گیا

مجھ کو راہوں میں پلکیں بچھانے تو دو
اَے مدینہ کی گلیو غلام آ گیا

جان اپنی مدینہ پہ دوں تو کہوں
جذبِ کامل مرا کچھ تو کام آ گیا

چاہتا ہوں میں آقا کرم کی نظر
فکر و شبہات کا ازدحام آ گیا

اُس کو رہتی ہے کب ماسوا کی خبر
جس کے ہاتھوں میں وحدت کا جام آ گیا

جلوہ گاہِ رسالت ہے پیش نظر
سر بہ سجدہ ہے دل وہ مقام آ گیا

روضۂ پاک سر چشمۂ فیض ہے
تشنہ لب جو گیا شادکام آ گیا

حیف قیسیٌ زیارت سے محروم ہے
دور منزل ہے اور وقتِ شام آ گیا

قیسیٌ الفاروقی

منگل، 11 اپریل، 2017

غزل : چند روزہ حیات ہوتی ہے

غزل

چند روزہ حیات ہوتی ہے
زندگی بے ثبات ہوتی ہے

جو نگاہوں میں بات ہوتی ہے
عشق کی کائنات ہوتی ہے

جلتے رہتے ہیں آنسوؤں کے دیے
ہجر کی ایسی رات ہوتی ہے

جب تعصب جنون بنتا ہے
دوپہر کو بھی رات ہوتی ہے

عشق کی یہ بساط ہے قیسی
اک اشارے میں مات ہوتی ہے

قیسی الفاروقی
___________________________
Find it on Facebook : www.facebook.com/QaisiAlFaruqui
_________________________________________
Ghazal by Shamsul Huda Qaisi AlFaruqui

جمعرات، 12 جنوری، 2017

غزل : جو وقت آیا تو خوں بھی بہا دیا ہم نے

غزل

جو وقت آیا تو خوں بھی بہا دیا ہم نے
وطن کی راہ میں یوں گل کھلا دیا ہم نے

یہ زندگی نہیں غفلت کا ایک پردہ ہے
اٹھے جو دنیا سے پردہ اٹھا دیا ہم نے

غریب بھی کبھی عزت مآب ہوتا ہے
یہ کم نہیں ہے کہ یہ بھی دکھا دیا ہم نے

جو پوچھا اس نے سرمایہٴ حیات ہے کیا
تو داغدار جو دل تھا دکھا دیا ہم نے

بجا کہ جیب و دامن ہیں تار تار مگر
روش روش تو چمن کو سجا دیا ہم نے

جو ہاتھ آئ کبھی ہم کو ہاتھ پھیلا کر
وہ آرزو وہ تمنا مٹا دیا ہم نے

ہجوم غم سے ہوئے ہمکنار جب بھی ہم
تو مسکرا کر شگوفہ کھلا دیا ہم نے

سوال تھا کہ یہ پیری کہاں بسر ہوگی
جواب گورِ غریباں بتا دیا ہم نے

کہا کسی نے کہ قیسی کا ہاتھ خالی ہے
وہیں پہ آنکھ سے موتی گرا دیا ہم نے

قیسی الفاروقی
___________________________
Find it on Facebook : www.facebook.com/QaisiAlFaruqui
_________________________________________
Ghazal by Shamsul Huda Qaisi AlFaruqui

منگل، 15 نومبر، 2016

غزل : بیکسی بن گئی معینِ حیات

غزل

بیکسی   بن    گئی   معینِ   حیات
کیوں  اُٹھائیں  کِسی  کے  احسانات

روح   تن   سے  جُدا   ہوئی   لیکن
زندگی  سے  کہاں  ملی  ہے  نجات

دام     اپنا    سمیٹ    لے     صیاد
پاؤں پکڑے ہوئے ہیں خود  حالات

ہم  کو   راس  آ   گئی   بہارِ   چمن
جیب ودامن سے مِل گئی ہے نجات

ہم    نے    دامن     بچا    لیا    اپنا
آکے  آنکھوں  میں  رُک گئی برسات

زندگی    تاب   و    تپش    کا    دن
موت  تاروں  بھری  حسین  اک رات

پابہ    زنجیر    ہیں    وہی    قیسی
جِن  کو   رہتا   ہے   پاسِ  ممنوعات

قیسی الفاروقی
______________________
Find it on Facebook : www.facebook.com/QaisiAlFaruqui
_____________________________________________
A Ghazal by Qaisi AlFaruqui




پیر، 13 جون، 2016

غزل : جسے دل سمجھتا ہے بے خبر نہیں کچھ بھی اس میں جو غم نہیں

غزل

جسے دل سمجھتا ہے بے خبر نہیں کچھ بھی اس میں جو غم نہیں
یوں ہی بے حسی میں گزر گئی تو حیات بھی موت سے کم نہیں

میری عمر بھر کی مسرتیں انہیں چار تنکوں پہ تھیں مگر    
جو چمن بچا ہے تو باغباں مجھے آشیاں کا بھی غم نہیں     

میں بغیر منتِ راہبر ہوں بلند و پست سے باخبر           
مرا ذوق خود مرا رہنما، میں اسیر نقش قدم نہیں        

ہیں عبث یہ تیری شکایتیں یہی بیش و کم کی حکایتیں     
تجھے خود ہی پاسِ خودی نہیں ترے دل میں اپنا بھرم نہیں

ہے قسم مذاق سجود کی کہ نگاہِ شوق و شعور میں               
وہ جبیں ہے ننگِ جبیں ابھی جو کسی آستاں پہ خم نہیں    

نہ مسرتوں کا خیال ہے نہ مصیبتوں کا ملال ہے             
تری ہر خوشی ہے مری خوشی یہی اک خوشی مجھے کم نہیں 

وہی تیرا قیسی مبتلا، ترے در پہ تھا جو پڑا ہوا                  
نہ ہوا ہو مشق غریب پر کوئی ایسا طرزِ ستم نہیں     

قَیْسِیْ اَلْفَارُوْقِی
____________________________

Qaisi Al Faruqui Poetry
A Ghazal by Qaisi Al Faruqui
Find it on Facebook : www.facebook.com/QaisiAlFaruqui

بدھ، 20 جنوری، 2016

نظم : جھنڈا

جھنڈا

پریم کی آؤ نگری بسائیں
راگ سے اپنے غم کو بھلائیں
پریت کا سب کو گیت سنائیں
آؤ ہم تم مل کر گائیں
ہند کا پیارا پیارا جھنڈا، ہند کا راج دلارا جھنڈا
ساری دنیا میں لہرائیں

آپس کے سب فرق مٹائیں
آزادی کو دھرم بنائیں
آزادی ہی کے گن گائیں
تن من دھن سب کچھ ہی لٹائیں
ہند کا پیارا پیارا جھنڈا، ہند کا راج دلارا جھنڈا
ساری دنیا میں لہرائیں

اونچے اونچے محلوں والے
تاجوں والے تختوں والے
خود غرضی کے سب متوالے
تو بھی گا دھن دولت والے
ہند کا پیارا پیارا جھنڈا، ہند کا راج دلارا جھنڈا
ساری دنیا میں لہرائیں

دولت دیش کی اپنی کر لیں
جھولی مسکینوں کی بھر دیں
دکھیوں کی ہم سیوا کر لیں
سب کو خوش و خرم کر دیں
ہند کا پیارا پیارا جھنڈا، ہند کا راج دلارا جھنڈا
ساری دنیا میں لہرائیں

دکھیا بپا  کا نام مٹا دیں
سکھ کا جگ میں راج چلا دیں
درویش پجاری زور دکھا دیں
آزادی کی دھوم مچا دیں
ہند کا پیارا پیارا جھنڈا، ہند کا راج دلارا جھنڈا
ساری دنیا میں لہرائیں

قیسی الفاروقی
_____________________

Shamsul Huda Qaisi Al Faruqui Poetry
A Poem by Qaisi Al Faruqui
Find Qaisi Al Faruqui on Facebook.