منگل، 26 جون، 2012
منگل، 12 جون، 2012
غزل : جہاں نہ کچھ بنا سکیں خرد کی ساری حکمتیں
جہاں نہ کچھ
بنا سکیں خرد کی ساری حکمتیں
وہاں پہ کام
آ گئیں خرد کی چند وحشتیں
کبھی نہ کر
سکا کوئی بشر کی پست ہمتیں
نہ پستیاں
زمین کی نہ آسماں کی رفعتیں
نہ کاوشیں نہ
خواہشیں نہ جستجو نہ حسرتیں
کسی کی واسطہ
چھٹے گذر چکی ہیں مدتیں
قیامتیں ہوں
حسن کی کہ عشق کی سیاستیں
کوئی بھی نام
دیجئے ہیں دل کی سب حکایتیں
بشر کے کشت و
خون سے زمین لالہ زار ہے
انھیں یہ دھن
کہ جیت لیں فلک کی ساری رفعتیں
ان اہل ِ عقل
پر اگر نہ روۓ قیسیٌ کیا کرے
نظر میں جن
کے آج ہیں فقط خلا کی وسعتیں
_________
پورن پور.
اپریل 1961ء
___________________
Click to Enlarge
![]() |
| Mohammad Shamsul Huda Qaisi AlFaruqui Poetry |
جمعرات، 31 مئی، 2012
غزل : تھا جو ازل ہی سے مکتوب
تھا جو ازل
ہی سے مکتوب
ہم سے ہوا ہے
سب منسوب
جوش ِ جنوں
میں ہوش ہے کب
کون ہے طالب
کیا مطلوب
فکر ِ معاش و
عشق ِ بتاں
شغل یہی دو
ہیں محبوب
ان کی توجہ
ان کا کرم ہے
میں جو ہوا
ہوں یوں محتوب
کرکے مسخر
مہر و ماہ
بھول گیا
تسخیر قلوب
عظمتِ انساں
بڑھتی جائے
دیکھ سکے گر
اپنے عیوب
قیسیٌ طالب
ہے یا رب
رکھ مجھ کو
غیرالمغضوب
_________
پورن پور. جون 1960ء
___________________
![]() |
| Azal by Qaisi AlFaruqui |
اتوار، 13 مئی، 2012
غزل : جب کلی کوئی مسکرائی ہے
جب کلی کوئی
مسکرائی ہے
آنکھ بے
ساختہ بھر آئی ہے
ہم ہیں انسان
کیوں خطا نہ کریں
جدِّ اعلٰی
سے خو یہ پائی ہے
کتنے غنچوں
کے دل ہوئے ہیں خوں
جب چمن میں
بہار آئی ہے
دور حاضر کے
دور رس انساں
تونے دنیا
نئی بسائی ہے
بستیاں آج
بھی اندھیری ہیں
چاند تک گو
تری رسائی ہے
اس ترقی کے
دور میں قیسیٌ
مردنی کیوں
دلوں پہ چھائی ہے
_________
پورن پور.
نومبر 1959ء
________________
![]() |
| Kalaam e Qaisi Al Faruqui |
منگل، 1 مئی، 2012
غزل : خلوص عشق کی جب دل میں روشنی نہ رہی
خلوص عشق کی
جب دل میں روشنی نہ رہی
تو کیا گلہ
ہے کہ پرکیف زندگی نہ رہی
اب التفات کے
قابل یہ زندگی نہ رہی
کہ آدمی تو
رہے قدر آدمی نہ رہی
سزا جزا کی
قائل ہو وہ عبادت تو
خطا معاف
تجارت ہے بندگی نہ رہی
فسردہ گل ہیں
تو غنچے بھی مضمحل سے ہیں
چمن رہا بھی
تو کیا جب وہ دلکشی نہ رہی
سنائیے غم ِ
دوراں کے نو بہ نو قصے
فسانۂ غم ِ
جاناں میں دلکشی نہ رہی
دل فسردہ کچھ
اس طرح سے مٹا قیسیٌ
کہ غم بھی غم
نہ رہا اور خوشی خوشی نہ رہی
_________
مودها. جنوری 1955ء
______________
![]() |
| Qaisi Al Faruqui Poetry |
بدھ، 18 اپریل، 2012
غزل : اس شوخ سے ہے دل کو امید کرم ابھی
اس شوخ سے ہے
دل کو امید کرم ابھی
سمجھے نہیں
فریبِ تمنا کو ہم ابھی
اک سعئی
رائگاں ہے یہ ضبطِ الم ابھی
آنکھیں تو
خشک ہو گئیں دامن ہے نم ابھی
محتاج و
مستعار ہے گل کی شگفتگی
کیا جانتے
ہیں گریۂ شبنم کو ہم ابھی
پیر ِ مغاں
نہ روک نگاہوں کا فیض ِ عام
ہونا ہر ایک
جام کو ہے جام ِ جم ابھی
اہل ِ خرد کو
کھو بھی چکے اعتبار ِ عشق
باقی ہے کچھ
تو اہل ِ جنوں کا بھرم ابھی
اک سوگوار ِ
زیست کو جینے کی آرزو
شاید ہے تشنہ
لب مرا ذوق ِ الم ابھی
کچھ اور چاہئے
ستم التفات دوست
قیسی غم ِ
حیات کی تلخی ہے کم ابھی
_________
رسڑا. جولائی
1952ء
_________________
![]() |
| Shamsul Huda Qaisi Faruqui |
منگل، 3 اپریل، 2012
کشش عصیاں کی اور اپنی بھی نادانی نہیں جاتی
کشش عصیاں کی اور اپنی بھی نادانی نہیں جاتی
کسی صورت سے بھی یہ خوۓ انسانی نہیں جاتی
وہی ہم تھے کہ فرقِ پاک پر تھا نورِ سبحانی
وہی ہم ہیں کہ اب صورت بھی پہچانی نہیں جاتی
ہجومِ یاس و حرماں بھی ہے لاکھوں حسرتیں بھی ہیں
مگر پھر بھی ہمارے دل کی ویرانی نہیں جاتی
_________
مودها،
ہمیرپور. جولائی 1953ء
________________
![]() |
| Qaisi AlFaruqui |
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)






