جمعہ، 21 ستمبر، 2012

غزل : نامرادی ہے اب تو عینِ حیات

نامرادی ہے اب تو عینِ حیات
کیوں اٹھائیں کسی کے احسانات

روح تن سے جدا ہوئی لیکن
زندگی سے کسے ملے ہے نجات

دام اپنا سمیٹ لے صیاد
پاؤں پکڑے ہوئے ہیں خود حالات

کم نہیں یہ بھی فیضِ موسمِ گل
جیب و دامن سے مل گئی ہے نجات

خیر گزری کھ بچ گیا دامن
آکے آنکھوں میں رک گئی برسات

زندگی تاب و تپش کے دن
موت تاروں بھری حسیں اک رات

ہوں اسیرِ بلا مگر قیسیٌ
کیا رہائی ہے اپنے بس کی بات
_________
پورن پور. مئی 1961ء
____________________

Qaisi AlFaruqui
A Ghazal by Qaisi AlFaruqui
 

منگل، 26 جون، 2012

قطعہ

غم کی دنیا میں گر کبھی قیسیٌ
شادمانی کا نام آیا ہے

میں نے سمجھا ہے کوئی راہی ہے
صبح بھولا تھا شام آیا ہے
_________
جون پور. جنوری 1962ء
______________________

Qaisi Al Faruqui Poetry
Qataa by Qaisi Al Faruqui
ڈپٹی کلکٹری کی خبر سن کر عارف عباسی مرحوم کی فرمائش پر

منگل، 12 جون، 2012

غزل : جہاں نہ کچھ بنا سکیں خرد کی ساری حکمتیں

جہاں نہ کچھ بنا سکیں خرد کی ساری حکمتیں
وہاں پہ کام آ گئیں خرد کی چند وحشتیں

کبھی نہ کر سکا کوئی بشر کی پست ہمتیں
نہ پستیاں زمین کی نہ آسماں کی رفعتیں

نہ کاوشیں نہ خواہشیں نہ جستجو نہ حسرتیں
کسی کی واسطہ چھٹے گذر چکی ہیں مدتیں

قیامتیں ہوں حسن کی کہ عشق کی سیاستیں
کوئی بھی نام دیجئے ہیں دل کی سب حکایتیں

بشر کے کشت و خون سے زمین لالہ زار ہے
انھیں یہ دھن کہ جیت لیں فلک کی ساری رفعتیں

ان اہل ِ عقل پر اگر نہ روۓ قیسیٌ کیا کرے
نظر میں جن کے آج ہیں فقط خلا کی وسعتیں
_________
پورن پور. اپریل 1961ء
___________________ 
Click to Enlarge
Mohammad Shamsul Huda Qaisi AlFaruqui Poetry

جمعرات، 31 مئی، 2012

غزل : تھا جو ازل ہی سے مکتوب

تھا جو ازل ہی سے مکتوب
ہم سے ہوا ہے سب منسوب

جوش ِ جنوں میں ہوش ہے کب
کون ہے طالب کیا مطلوب

فکر ِ معاش و عشق ِ بتاں
شغل یہی دو ہیں محبوب

ان کی توجہ ان کا کرم ہے
میں جو ہوا ہوں یوں محتوب

کرکے مسخر مہر و ماہ
بھول گیا تسخیر قلوب

عظمتِ انساں بڑھتی جائے
دیکھ سکے گر اپنے عیوب

قیسیٌ طالب ہے یا رب
رکھ مجھ کو غیرالمغضوب
_________
پورن پور. جون 1960ء
___________________
 
Azal by Qaisi AlFaruqui
 

اتوار، 13 مئی، 2012

غزل : جب کلی کوئی مسکرائی ہے

جب کلی کوئی مسکرائی ہے
آنکھ بے ساختہ بھر آئی ہے

ہم ہیں انسان کیوں خطا نہ کریں
جدِّ اعلٰی سے خو یہ پائی ہے

کتنے غنچوں کے دل ہوئے ہیں خوں
جب چمن میں بہار آئی ہے

دور حاضر کے دور رس انساں
تونے دنیا نئی بسائی ہے

بستیاں آج بھی اندھیری ہیں
چاند تک گو تری رسائی ہے

اس ترقی کے دور میں قیسیٌ
مردنی کیوں دلوں پہ چھائی ہے
_________
پورن پور. نومبر 1959ء
________________

Kalaam e Qaisi Al Faruqui

منگل، 1 مئی، 2012

غزل : خلوص عشق کی جب دل میں روشنی نہ رہی

خلوص عشق کی جب دل میں روشنی نہ رہی
تو کیا گلہ ہے کہ پرکیف زندگی نہ رہی

اب التفات کے قابل یہ زندگی نہ رہی
کہ آدمی تو رہے قدر آدمی نہ رہی

سزا جزا کی قائل ہو وہ عبادت تو
خطا معاف تجارت ہے بندگی نہ رہی

فسردہ گل ہیں تو غنچے بھی مضمحل سے ہیں
چمن رہا بھی تو کیا جب وہ دلکشی نہ رہی

سنائیے غم ِ دوراں کے نو بہ نو قصے
فسانۂ غم ِ جاناں میں دلکشی نہ رہی

دل فسردہ کچھ اس طرح سے مٹا قیسیٌ
کہ غم بھی غم نہ رہا اور خوشی خوشی نہ رہی
_________
مودها. جنوری 1955ء
______________
 
Qaisi Al Faruqui Poetry
 

بدھ، 18 اپریل، 2012

غزل : اس شوخ سے ہے دل کو امید کرم ابھی

اس شوخ سے ہے دل کو امید کرم ابھی
سمجھے نہیں فریبِ تمنا کو ہم ابھی

اک سعئی رائگاں ہے یہ ضبطِ الم ابھی
آنکھیں تو خشک ہو گئیں دامن ہے نم ابھی

محتاج و مستعار ہے گل کی شگفتگی
کیا جانتے ہیں گریۂ شبنم کو ہم ابھی

پیر ِ مغاں نہ روک نگاہوں کا فیض ِ عام
ہونا ہر ایک جام کو ہے جام ِ جم ابھی

اہل ِ خرد کو کھو بھی چکے اعتبار ِ عشق
باقی ہے کچھ تو اہل ِ جنوں کا بھرم ابھی

اک سوگوار ِ زیست کو جینے کی آرزو
شاید ہے تشنہ لب مرا ذوق ِ الم ابھی

کچھ اور چاہئے ستم التفات دوست
قیسی غم ِ حیات کی تلخی ہے کم ابھی
_________
رسڑا. جولائی 1952ء
_________________

Shamsul Huda Qaisi Faruqui