اتوار، 13 مئی، 2012

غزل : جب کلی کوئی مسکرائی ہے

جب کلی کوئی مسکرائی ہے
آنکھ بے ساختہ بھر آئی ہے

ہم ہیں انسان کیوں خطا نہ کریں
جدِّ اعلٰی سے خو یہ پائی ہے

کتنے غنچوں کے دل ہوئے ہیں خوں
جب چمن میں بہار آئی ہے

دور حاضر کے دور رس انساں
تونے دنیا نئی بسائی ہے

بستیاں آج بھی اندھیری ہیں
چاند تک گو تری رسائی ہے

اس ترقی کے دور میں قیسیٌ
مردنی کیوں دلوں پہ چھائی ہے
_________
پورن پور. نومبر 1959ء
________________

Kalaam e Qaisi Al Faruqui

منگل، 1 مئی، 2012

غزل : خلوص عشق کی جب دل میں روشنی نہ رہی

خلوص عشق کی جب دل میں روشنی نہ رہی
تو کیا گلہ ہے کہ پرکیف زندگی نہ رہی

اب التفات کے قابل یہ زندگی نہ رہی
کہ آدمی تو رہے قدر آدمی نہ رہی

سزا جزا کی قائل ہو وہ عبادت تو
خطا معاف تجارت ہے بندگی نہ رہی

فسردہ گل ہیں تو غنچے بھی مضمحل سے ہیں
چمن رہا بھی تو کیا جب وہ دلکشی نہ رہی

سنائیے غم ِ دوراں کے نو بہ نو قصے
فسانۂ غم ِ جاناں میں دلکشی نہ رہی

دل فسردہ کچھ اس طرح سے مٹا قیسیٌ
کہ غم بھی غم نہ رہا اور خوشی خوشی نہ رہی
_________
مودها. جنوری 1955ء
______________
 
Qaisi Al Faruqui Poetry
 

بدھ، 18 اپریل، 2012

غزل : اس شوخ سے ہے دل کو امید کرم ابھی

اس شوخ سے ہے دل کو امید کرم ابھی
سمجھے نہیں فریبِ تمنا کو ہم ابھی

اک سعئی رائگاں ہے یہ ضبطِ الم ابھی
آنکھیں تو خشک ہو گئیں دامن ہے نم ابھی

محتاج و مستعار ہے گل کی شگفتگی
کیا جانتے ہیں گریۂ شبنم کو ہم ابھی

پیر ِ مغاں نہ روک نگاہوں کا فیض ِ عام
ہونا ہر ایک جام کو ہے جام ِ جم ابھی

اہل ِ خرد کو کھو بھی چکے اعتبار ِ عشق
باقی ہے کچھ تو اہل ِ جنوں کا بھرم ابھی

اک سوگوار ِ زیست کو جینے کی آرزو
شاید ہے تشنہ لب مرا ذوق ِ الم ابھی

کچھ اور چاہئے ستم التفات دوست
قیسی غم ِ حیات کی تلخی ہے کم ابھی
_________
رسڑا. جولائی 1952ء
_________________

Shamsul Huda Qaisi Faruqui
 

منگل، 3 اپریل، 2012

کشش عصیاں کی اور اپنی بھی نادانی نہیں جاتی

کشش عصیاں کی اور اپنی بھی نادانی نہیں جاتی
کسی صورت سے بھی یہ خوۓ انسانی نہیں جاتی

وہی ہم تھے کہ فرقِ پاک پر تھا نورِ سبحانی
وہی ہم ہیں کہ اب صورت بھی پہچانی نہیں جاتی

ہجومِ یاس و حرماں بھی ہے لاکھوں حسرتیں بھی ہیں
مگر پھر بھی ہمارے دل کی ویرانی نہیں جاتی
_________
مودها، ہمیرپور. جولائی 1953ء
________________

Qaisi AlFaruqui
 

ہفتہ، 17 مارچ، 2012

غزل : پیش ِ نگاہ جیسے ترا آستاں رہے

پیش ِ نگاہ جیسے ترا آستاں رہے
اس کی نظر میں پست نہ کیوں آسماں رہے

ہم یوں رہین ِ منتِ برق ِ تپاں رہے
گرتی ہے گھوم پھر کے نشیمن جہاں رہے

زیر زمیں ہے چین نہ زیر فلک سکوں
مجھ کو کوئی بتاۓ کہ کوئی کہاں رہے

بھڑکا دی آگ اور بھی گلہاۓ سرخ نے
گلشن میں بھی رہے تو ہم آتش بجاں رہے

اب وہ غرور ناز نہ خودداری ِ نیاز
پردے وہ اٹھ گئے جو کبھی درمیاں رہے

آنکھوں نے اس طرح سے اڑائی ہے دل کی بات
جیسے کوئی کسی کا بڑا رازداں رہے

مجھ سے رخ ِ حبیب کی سنجیدگی نہ پوچھ
وہ مہرباں ہوئے بھی تو ہم بدگماں رہے

جوہر کی قدر تھی کبھی تھے حق شناس لوگ
حالات اب وہ دہر کے قیسیٌ کہاں رہے
_________
رسرا. مئی 1952ء
______________
Qaisi Faruqui

ہفتہ، 10 مارچ، 2012

غزل : ترک الفت تو ہو نہیں سکتی

ترک الفت تو ہو نہیں سکتی
یہ قیامت تو ہو نہیں سکتی

ان سے قربت تو ہو نہیں سکتی
ایسی قسمت تو ہو نہیں سکتی

تشنگی خون سے بجھا لینا
آدمیت تو ہو نہیں سکتی

گر متاع ِ جہاں بھی کوئی دے
دل کی قیمت تو ہو نہیں سکتی

ان کو حق ہے کرم کریں کہ ستم
کچھ شکایت تو ہو نہیں سکتی

تیرے رنگیں تصورات بغیر
دل کی زینت تو ہو نہیں سکتی

پائیں ہم عشق و موت پر قابو
ایسی قدرت تو ہو نہیں سکتی

اہل ِ دنیا کے روبرو قیسیٌ
ہم سے منت تو ہو نہیں سکتی
 _________
دیوریا. جون 1948ء
____________________

Ghazal by Qaisi AlFaruqui

ہفتہ، 3 مارچ، 2012

غزل : دو تنکے ہیں باقی انھیں برباد کئے جا

دو تنکے ہیں باقی انھیں برباد کئے جا
اور اتنا کرم اے مرے صیاد کئے جا

جو کچھ بھی ادھر سے ہو کرم ہو کہ ستم ہو
تو شکر ہمیشہ دل ناشاد کئے جا

آئینۂ دل کو مرے اے جان ِ دو عالم
اک جلوہ گہِ حسن ِ خداداد کئے جا

دنیاۓ محبت میں ترا نام بڑا ہے
کچھ طرز ِ ستم اور بھی ایجاد کئے جا

دنیا تجھے کیا کہتی ہے کر فکر نہ قیسیٌ
کرتا ہے جسے یاد اسے یاد کئے جا
_________
گورکھپور. دسمبر 1940ء
___________________

Ghazal by Qaisi AlFaruqui